حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 360
:عرب کا دستور تھا کہ وہ جنگ میں اپنی عورتوں کو بھی ساتھ لے جاتے تھے۔اِس رسم کا فائدہ یہ تھا کہ وہ بڑے جوش سے جنگ کرتے تھے اور جان توڑ کر لڑتے تھے کیونکہ ان کو خیال ہوتا کہ اگر ہم نے پیٹھ پھیری اور بُزدلی دکھائی تو ہماری عورتو ں کی عصمت محفوظ نہیں رہے گی اور سب بال بچّہ دشمنوں کے قبضہ میں آ جائے گا اِس واسطے جنگ کا نام بھی انہوں نے حفیظ رکھا تھا کیونکہ جنگ ان کے ننگ و ناموس کی حفاظت کا موجب تھی۔اب جنگوں میں جب عورتیں ان کے ساتھ تھیں تو بعض وقت ان کو حَیض بھی آ جاتا۔اس حالت میں انہوں نے یہ مسئلہ پوچھا کہ کیا حکم ہے ؟ اِسلام میں حیض کے متعلق عورتوں کو کئی حکم ہیں۔مثلاً یہ کہ وہ روزہ نہ رکھے( کیونکہ پہلے ہی سے بہت ضعیف ہوتی ہے اِس طرح بیماری بڑھتی ہے)۔نماز نہ پڑھے۔وضو نہ کرے کیونکہ ٹھنڈے پانی سے استنجا سخت نقصان پہنچاتاہے۔کلمۃ الحکمۃ ضَآلَۃُ الْمُؤْمِنِ حَیْثُ وَجَدَھَا اَخَذَھَا(الترمذی۔کتاب العلم باب ماجافی فضل الفقہ علی العبادۃ)کے ماتحت مَیں ہندو مذہب کے اِس طریق کو بہت اچھا سمجھتا ہوں کہ وہ اپنی عورتوں کو آٹا تک نہیں گوندھنے دیتے تاکہ پانی نقصان نہ پہنچائے۔گو وہ اس احتیاط میں حد سے بڑھ گئے ہیں۔ہماری پاک شریعت چونکہ انسان کے جان و مال کی محافظ ہے اِس واسطے اﷲ نے خاص عبادتیں معاف کر دی ہیں اور ادھر مردوں کو روک دیا۔: بدبو دار چیز ہے۔اس حالت میں انسان جماع کرے تو دُکھ کا موجب ہے۔اِس سے معلوم ہؤا کہ خلافِ وضعِ فطرت بھی حرام ہے۔ایک پاک فطرت کا اِنسان حضرت علیؓ فرماتا ہے اگر قرآن میں اس کا ذکر نہ ہوتا تو میرا واہمہ تجویز ہی نہیں کر سکتا کہ یہ بدکاری بھی ہے۔