حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 357 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 357

جُوا کھیلتے۔جو ہارتا اس کے ذمّہ قحط اور ضرورتوں کا خرچ ہوتا۔عرب کے بعض شعروں میں پایا جاتا ہے کہ وہ ہارنے کو بہت پسند کرتے تھے اور اپنی ہار کو فخر سے بیان کرتے تھے۔اِس کی بھی یہی وجہ تھی کہ ایسے لوگوں کے ذمّہ تمام اخراجات ہو جاتے اور قحط میں سارے غریبوں کا نان و نفقہ اسی کو دینا پڑتا۔چونکہ اس میں ایک نیکی کا موقع ملتا تھا اِس لئے وہ تفاخر کرتے تھے۔اس پر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان میں بڑی بدکاری ہے۔بے شک غرباء کو نفع پہنچتا ہے نَفْعِھِمَاکے یہی معنے ہیں مگراس بدکاری کا جو نتیجہ ہے وہ سخت گندہ ہے۔اس کے مقابل میں اس نفع رسانی کی کوئی حقیقت نہیں۔کیونکہ جب ان کے ذمّہ یہ اخراجات پڑتے اور پاس ایک کوڑی بھی نہ ہوتی تو ناچار ان کو آرمینیا اور کاکس تک ڈاکہ زنی کرنی پڑتی۔جب صحابہؓ نے خمرو مَیسر کے متعلق حکم سُنا تو معًا ان کے دلوںمیں خیال پَیدا ہؤا مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ پھر خرچ کہاں سے آوے۔فرمایا ج اَلْعَفْوَجو تمہاری حاجتِ اصلی سے زیادہ ہو۔مُٹھی بھر جو جمع کرو خدا تعالیٰ اسی میں برکت ڈال دے گا۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۶؍اپریل ۱۹۰۹ء) اِس آیت شریف سے ثابت ہوا شراب میں اِثم ہے اور بڑا اِثم ہے۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۳۳۲) : صدقات کیسے مال سے دیں۔کِس قدر صدقہ نہایت ضروری ہے۔اِس کے قواعد جیسے اِسلام میں مفصّل موجود ہیں مجھے معلوم نہیں کہیں اَور جگہ بھی ہوں۔مسیحؑ فرماتے ہیں جوکوئی تجھ سے مانگے اُسے دے۔کہاں سے دے۔چوری حرام کاری سے بھی۔بُری چیز مانگے۔محال بھی مانگے کیا تب بھی دیں۔مگر قرآن فرماتا ہے:    (البقرۃ:۲۶۸) اور پوچھتے ہیں تجھ سے کیا خرچ کریں تو کہہ جو افزود ہو حاجت ہے۔(فصل الخطاب (ایڈیشن دوم) جلد اوّل صفحہ ۳۸) ’’عفو‘‘ یعنی جو حاجتِ اصلیہ سے زیادہ ہو حلال اور طیّب مالس سے دے۔ردّی چیز نہ ہو۔ابْتفائً لِوَجْہِ اﷲ دے۔(تشحیذالاذہان جلد ۷ نمبر۷ صفحہ ۳۲) : کہاں دیں۔کتنا خرچ کریں۔دونوں معنی ہیں۔