حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 354 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 354

 (الحجرات:۱۲) ۳۔اگر کوئی تمہیں تکلیف دے تو تم صبر سے کام لو۔چنانچہ فرمایا(البقرۃ:۱۵۴) دُنیا میں جتنی جنگیں ہوتی ہیں اگر ایک طرف صابر ہو تو نفع اُٹھائے مگر افسوس کہ سطحی خیالات کے لوگ صبر کی حقیقت کو نہیں سمجھتے حالانکہ دیکھتے ہیں اگر شہنشاہ کسی کی معیّت کا دعوٰی کرے تو وہ شخص پھُولا نہیں سماتا۔پس جس کے ساتھ اﷲ اپنی معیّت جتائے اُسے کتنا فخر ہاصل کرنا چاہیئے اور فرمایا ہے (الذّمر:۱۱) صابرین کیلئے نیک ثمرات کا وعدہ ہے اور  (الشورٰی:۴۴) میں بتلایا ہے کہ صبر کرنا بھاری کام ہے۔۴۔چوتھا اصل یہ فرمایاکہ (الحجرات:۱۰) غرض بدظنّی سے روکا۔تمسخر سے روکا۔صبر کے فوائد بتلائے اور یہ کہا کہ اگر آدمیوں میں نقار ہو تو تم صلح کرا دو۔اِن چار اصولوں کو بتا کر دُنیا میں امنِ عامہ کی بنیاد ڈالی۔عرب کی جنگجو قوم میں صبر کا مادہ ضرور تھا چنانچہ اِسی لئے وہ شہرِ حرام میں قتال نہ کرتے تھے۔حتّٰی کہ اپنے بیٹے یا بھائی یا باپ کے قاتل کو بھی نہ مارتے تھے۔حضرت نبی کریم صلّی اﷲ علیہ وسلم نے اِس مادہ کو بڑھانے کی کوشِش فرمائی اور ان میں وحدت کی رُوح پَیدا کرنے کی تدبیریں کیں۔ازاں جملہ ایک یہ تھی کہ اپنی پھوپھی کی لڑکی کا نکاح اپنے غلام سے کر دیا تاکہ غلاموں کو حقیر نہ سمجھا جائے۔آخر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اِس ارادہ میں کامیاب ہوئے اور آپ نے ایک ایسی جماعت پیدا کر لی جو امنِ عامہ کی بہت طرف داری کرتی تھی۔شریر لوگوں نے جب دیکھا کہ یہ تو صبر کرتے ہیں اِس لئے انہوں نے شہرِ حرم میں بھی ان کو چھیڑنا شروع کیا۔اس پر صحابہؓ نے سوال کیا کہ ہمیں شہرِ حرم میں لڑائی کا کیا حکم ہے؟ فرمایا کہ یہ بڑے گناہ کی بات ہے اور اِس لڑائی کے تین نقصان ہیں۔صَدٌّ عَنْ سَبِیْلِ اﷲِ(اﷲ کی راہ میں آمد و رفت سے روکا جاتا ہے) اور پھر اس کا کفر ہے اور عزّت والی مسجد کا کفر ہے اور پھر خاص شہر والوں کا نکالنا تو اس سے بھی بڑا جُرم ہے۔وَ مَنْیَرْتَدِدْ : دوسرے مقام پر فرمایا(المآئدۃ:۵۵) پھر فرمایا حَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ۔وہ اِسلام کے مقابلہ میں تیزی سے اُٹھیں گے مگر ان کی