حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 353 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 353

تجھے پُوچھتے ہیں مہینے حرام کو اور اس میں لڑائی کرنی تو کہہ لڑائی اس میں بڑا گناہ ہے اور روکنا اﷲ کی راہ سے۔(فصل الخطاب حِصّہ اوّل صفحہ۱۰۱) عرب میں خانہ جنگیاں ہوتی رہتی تھیں۔چھوٹی موٹی بات پر خون کی ندیاں بہہ جاتی تھیں۔ایک فریق دوسرے کی مانتا نہ تھا اِس واسطے ان میں طوائف الملوکی رہتی تھی۔جہاں کوئی جو ہڑ ہوتا وہ جنگ گاہ بن جاتا۔اِس کی وجہ یہ تھی کہ لوگ مویشی رکھتے تھے اور ہر ایک یہی چاہتا کہ مَیں ہی اپنے مویشی کو آرام پہنچاؤں اِس واسطے ان کے دارات مقاتلات بن جاتے تھے۔غرض حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں اس قوم میں دو بڑے عیب تھے ایکؔ بُت پرستی دومؔ باہم لڑائی۔اِن دونوں کی اصلاح آپ نے فرمائی۔چنانچہ قرآن مجید میں ہے (اٰل عمران:۱۰۴)یعنی تم دشمن تھے ایسے دشمن کہ ابن العم کا لفظ بھی گویا لڑائی کا نشان تھا حالانکہ یہ رشتہ اتحاد و قُرب کے لئے ہے۔دوسرا عیب شِرک کا تھا۔اِس کا اِس قدر زور تھا کہ مکّہ معظّمہ کے اندر ۳۶۰ بُت تھے۔اِس شِرک کے متعلق آپ کی تعلیم خصوصیّت سے ایسی تھی کہ اس کی جڑیں کاٹ دے چنانچہ اوّل تو لَآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ تمام شرکوں کی جڑکو کاٹتا ہے۔اِس کے معنے ہیں اﷲ کے سوا کوئی ہمارا حاجت روا نہیں۔ہم کسی کو سجدہ نہیں کرتے۔اس کے سوا کوئی ہماری دعا کو نہیں سُنتا۔ہم کسی کی نذر کو نہیں مانتے۔پھرصریح طور پر فرمایا(النّسآء:۴۹) آپ جب عورتوں سے بیعت لیتے تھے تو سب سے پہلے یہی وعدہ لیتے تھے(المُمتحنۃ:۱۳) غرض عرب میں دو عیب تھے دونوں کے دُور کرنے کے لئے آپؐ نے بڑی بڑی کوشِشیں کیں اور ان کو شِرک سے نکال کر توحید کی راہ دکھائی اور خانہ جنگیوں سے چھُڑا کر بھائی بھائی بنا دیا۔قوموں میں وحدت کا بیج بونے کے لئے چار اصول بتلائے۔۱۔بدظنّی کی ترک کیونکہ یہی جَڑ ہوتی ہے تمام بُرائیوں کی۔بدظنّی سے نکتہ چینی تک نوبت پہنچتی ہے اور پھر غیبتیں شروع ہو جاتی ہیں اِس لئے ارشاد کیا (الحجرات:۱۳) ۲۔ٹھٹھا ترک۔یہ بھی کئی قِسم کی لڑائیوں کا مُوجب ہو جاتا ہے اِس لئے فرمایا