حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 349 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 349

بلکہ یہ کہ انسان بحیثیت انسان ایک گروہ ہے جیسے کُتّے الگ گھوڑے الگ۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر ۹ صفحہ ۴۴۲)     اَب اِس آیت کے متعلق مجھے یہ کہنا ہے کہ خدا نے انسان کی فطرت میں یہ بات رکھی ہے کہ وہ آرام چاہتا ہے چنانچہ جہاں اس نے رُوح کے تقاضے بیان کئے ہیں وہاں یہ ذکر بھی کیا ہے کہ وہ آرام کو چاہتی ہے۔جس قدر معالجات ہیں۔علوم ہیں۔اموال خرچ کئے جاتے ہیں ان سب کا منشاء یہی ہے کہ آرام حاصل ہو اور آرام کے لئے جامع لفظ ہے جنّت۔جنّت کہتے ہیں باغ کو۔باغ میں جانے سے غم غلط ہوتا ہے۔نظّارۂ قدرت دیکھا جاتا ہے۔پھُولوں سے دل کو راحت حاصل ہوتی ہے۔احباب کی ملاقات کا لُطف آتا ہے۔پھر طرح طرح کے میوے کھائے جاتے ہیں۔گویا باغ میں آنکھوں کا مزا، کانوں کا مزا، زبان کا مزا، ناک کا مزا سب کچھ شامل ہے۔سائنسدان بھی اِس بات کو مانتے ہیں کہ باغ میں جو ہَوا چلتی ہے وہ خاص طور پر راحت بخش ہوتی ہے۔شدّتِ گرمی میں جو آرام باغوں میں ہوتا ہے وہ بھی بے مثل ہے۔الغرض انسان کی فطرت میں آرام کی خواہش ہے۔اﷲ تعالیٰ اسے  میں ظاہر فرما کر کہتا ہے کہ تم چَین کے مقام میں جانا چاہتے ہو مگر کیا بغیر کچھ کئے کے؟ ہرگز نہیں۔ہر شخص کو چَین کے حصول کے لئے کچھ کام کرنا پڑے گا۔