حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 350
جنّت میں جانے کے کچھ اصول ہیں ان میں چند کُل انبیاء و اَولیاء میں مشترک ہیں منجملہ انکے ایک نفس کی بے اَنت خواہشوں کو روکنا۔تین قِسم کی خواہشیں ہیں۔ایکؔ مال کی خواہش ہے چنانچہ اس کے لئے انبیاء نے یہ قاعدہ بنایا (البقرۃ:۱۸۹)اس میں ملازم، پیشہ ور وغیرہ سب آ گئے۔دومؔ۔کان، آنکھ، زبان حُسن کے بہت مشتاق ہیں۔حسین چیز کو دیکھنا ، اس کی خوشبو کو سُونگھنا، اس کی اواز سُننا ، ان تمام باتوں کی خواہش کا نام شہوت ہے۔شہوت آنکھ سے شروع ہوتی ہے اِس لئے اﷲ تعالیٰ حکم دیتا ہے سُورۂ نور میں (النّور:۳۱) اِسی طرح مومنات کے لئے حکم ہے۔سومؔ۔غضب۔اِس کے متعلق بھی بڑی تعلیمیں ہیں۔چنانچہ پارہ ۶ کے شروع میں فرماتا ہے (النّسآء:۱۵۰)یعنی تم اپنے حال کو نہیں دیکھتے کہ خدا کے مقابلہ میں کیا کیا بغاوتیں کی ہیں پھر بھی اﷲ تعالیٰ اس پر گرفت نہیں فرماتا۔وہ قادر ہو کر عفو کرتا ہے پس تم بھی درگذر کیا کرو۔خلاصہ یہ ہؤا کہ انسان چین چاہتا ہے اور جَین کے حصول کے لئے خواہش کرتا ہے۔مال کی۔شہوت کی ، غضب کی،لیکن جو اِن کو ناجائز طریق سے حاصل کرتا ہے یا ان کا بے جا استعمال کرتا ہے وہ پکڑ ا جاتا ہے۔زانی کو دیکھو کہ وہ جب شہوت کو بے جا طور سے استعمال کرتا ہے تو اسی عضو پر آتشک و سوزاک سے سزا کھاتا ہے جس سے خدا کے قانون کو توڑا۔اسی طرح چور کا حال ہے کہ وہ مال کے لئے شریعت کی مخالفت کرتا ہے اِس لئے کبھی کوئی چور دولتمند نہ دیکھو گے۔ایک چور کسی عورت کا چُوڑا اتار کر لے گیا۔عورت نے دیکھ لیا مگر پکڑ نہ سکی۔آخر کئی سالوں کے بعد چور اسی عورت کے دروازے سے گزرا تو اس عورت نے کہا کہ اَے بدبخت میرے ہاتھوں میں تو پھر بھی چُوڑا ہی موجود ہے تجھی پر خدا کی پھٹکار پڑی۔اِسی طرح غضب والے جو ارتکابِ جرائم کرتے ہیں اس کی سزا پاتے ہیں۔پس خداوند تعالیٰ فرماتا ہے کہ جنّت جب ملے گی جب تم ۱۔بَاْسَآء: غریبی۔یہ بھی پَیدا ہوتی ہے مال کی کمی سے۔۲۔ضَرَّآء :بیماری ۳۔زلْزِلُوْا:دوسرے مقام میں حِیْنَ الْبَاْسِ (البقرۃ:۱۷۸) فرماتا ہے۔یہ غضبی قوّت کے ماتحت ہے۔اِن تین امتحانوں میں پورے نہ نکلو گے تو جنّت نصیب نہ ہو گی۔اِس پر صحابہؓ نے عرض کیا کہ حضور