حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 348
لوگوں کا دین ایک تھا۔پھر بھیجے اﷲ نے نبی خوشی اور ڈر سُنانے والے اور اُتاری ان کے ساتھ کتاب سچّی کہ فیصل کرے لوگوں میں جس بات میں وہ جھگڑا کریں۔(فصل الخطاب حصّہ دوم صفحہ ۱۰۳) :نیک و بَد تو دُنیا میں ہوتے ہیں مگر ایک وقت لوگوں پر ایسا آتا ہے کہ ان میں سے غیرتِ ایمانی اُٹھ جاتی ہے اور وہ مذہبی بحثوں کو فساد جاننے لگتے ہیں۔ایک مُنصف فخر کے طور پر کہتا ہے کہ میرا ایک دوست بڑا پیارا تھا تیس برس سے ملاقات چلی آتی ہے اور مَیں نے کبھی اس کے سامنے خدا کا نام نہیں لیا۔ کے میرے نزدیک یہی معنے ہیں کہ بے غیرت ہو کر ایک رنگ میں رنگین ہو جانا۔ایسے وقت میں اﷲ کے مامور آتے ہیں۔چنانچہ فرماتا ہے : نبیوں کو مبعوث کرتا ہے۔:یعنی محض ضِد کی وجہ سے نہیں مانتے۔حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی وفات سے کچھ دن پہلے مسیلمہ کذّاب نے پیغمبری کا دعوٰی کیا۔ایک صحابی کا آشنا مسیلمہ کا مرید تھا۔اس سے پوچھا گیا تم نے مسیلمہ کو کیوں مان لیا اور محمد رسول اﷲصلّی اﷲعلیہ وسلّم میں کیا نقص دیکھا تو وہ کہنے لگا اَکْذَبُ بَنِیْ یَمَامَۃَ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ اَصْدَقِ قُرَیْشٍ۔قریش خواہ کیسا راست باز ہو آخر قریشی ہے اس سے مجھے اپنی قوم کا اَکْذَباچھا۔پس یہ وجہ ہوتی ہے اختلاف کی۔مَیں کل بتلا چکا ہوں کہ جس حصّہ میں انسان کا دخل نہیں اس میں شریعت نازل نہیں ہوتی اور جس میں دخل اور اختیار ہے اس میں شریعت ہے۔قانونِ سرکاری اور شریعت میں یہ فرق ہے کہ قانونِ گورنمنٹ اس وقت گرفتار کر سکتا ہے جب گناہ کا اثر کِسی دوسرے پر عملی رنگ میں پڑے مگر شریعت گناہ کے مبدء کو پکڑتی ہے مثلاً بدنظری ہے۔اب پولیس اسے نہیں پکڑتی لیکن شریعت نے یہ برکت کا کام دُنیامیں کیا ہے کہ جو شخص شریعت پر عمل پَیرا ہو وہ پولیس کے ہاتھ میں آتا ہی نہیں۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۶؍ اپریل ۱۹۰۹ء) : اِس کی تفسیر سورۂ یونس (آیت۲۰) میں ہے۔ حَرف ہے۔یہ مطلب نہیں کہ سب کافر تھے یا سب مومن