حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 334 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 334

پروانہ وار وہاں فدا ہو۔کہیں دشمنوں کی روک ٹوک کی جگہ سُن پائے تو وہاں پتھّر چلاوے۔یہی مجمل حقیقت روزے اور حج کی سمجھو۔مولوی محمد قاسم مرحوم نے یہ صوفیانہ تقریر مفصّل اپنے کسی رسالہ میں لکھی ہے۔اِس جواب پر میرے عزیز فرزند نے مجھے کہا آپ جب اَسرار شرائعِ اسلام بیان کرتے ہیں تو ان پر دو اعتراض وارد ہوتے ہیں:۔اوّلؔ یہ اَسرار جو آپ بیان کرتے ہیں اگر واقعی اور سچّے ہیں تو خود خدا نے یا جناب رسالتمآب صلّی اﷲ علیہ وسلّم نے یا آپ کے صحابہ نے کیوں بیان نہ کئے؟ دومؔؔؔؔؔؔؔ ؔ ؔؔؔؔ ان اعمال کے ساتھ اِسلام نے یہ چند رکعات اور دعائیں کیوں لگا دیں۔اگر صرف اجتماعِ قومی ہی جمعہ اور جماعت عیدین اور حج میں مقصود تھا؟ خاکسار نے اس عزیز سے کہا۔قانونِ قدرت پر نظر کرو۔فونوگراف، لیتھوگراف۔ٹیلیگراف، چھاپہ،ریل، اسٹیم کے اَسرار عناصر میں اس وقت سے موجود ہیں جب سے عناصر کو خالقِ عناصر نے پیدا کیا ( یہاں میرا عزیز غور کرے) اِلّا نہ خدا نے اس وقت ان اَسرار کو بیان فرمایا نہ اس کے ان مقرّبینِ بارگاہ نے جو اس وقت تھے ان کی تشریح کی پھر کیا اس وقت کے بیان نہ کرنے سے لازم آتا ہے کہ یہ اسرار موجود ہی نہ تھے اور یہ منافع جو آج ظاہر ہوئے ان عناصر میں اسی زمانے میں موجود ہو گئے ہیں۔عزیزِ من قانونِ شریعت ہاں اسلام بعینہٖ قانونِ الہٰی سمجھو۔عزیزِ من قانونِ قدرت اور طبعیات میں صرف وہی اسرار اور منافع نہیں جو حکمائے یونان اور یورپ اور بقول آریہ سماج دانا یانِ ہند ( توبہ) آریہ دیش نے بیان کئے بلکہ اَور بے اَنت اسرار بھی ہیں۔اگر طبعی قانون کے اسرار بے انتہا ہیں اور صرف اس قدر نہیں جو اَب تک حکماء نے بیان کئے ہیں تو احکامِ اسلام کے اسرار بھی ایسے ہی سمجھو۔معلوم نہیں زمانہ کی ترقّی پر کیا کیا اسرار قانونِ قدرت اور قانونِ شریعت میں ظاہر ہوں گے سَلفِ اُمّت اگر اسرار بیان کرتے تو کِس قدر اور کیا بیان کرتے… دوسرے اعتراض کا جواب یہ ہے ۱۔صرف اجتماع قومی ہی مقصود بالذّات نہیں ہوتا بلکہ اسلام کا منشاء ہے کہ ہر ایک فعل میں،ہر ایک قول میں ہم کو ہمارا خالق اور رازق مربّی یاد رہے۔کوئی فِعل اور قول بدُوں شمول نام باری و رضائے ایزدی نہ ہو۔ہر وقت فانی اشیاء سے بقا کی طرف۔جسم سے رُوح کی طرف توجّہ رہے۔دیکھو پائخانے کو جاتے ہوئے ایک جسمانی نجاست پھینکنے کی جگہ جاتے ہیں۔اِسلام سکھاتا ہے پائخانے میں جاتے وقت کہو اَللّٰھُمَّ اِنّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْخُبْثِ وَ الْخَبَائِثِ