حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 321
قرآن شریف کے ذریعہ سے مسلمانوں کو تقوٰی میں ایک ریاضت کرائی جاتی ہے کہ جب مباح چیزیں انسان خدا کی خاطر چھوڑتا ہے تو پھر حرام کو کیوں ہاتھ لگانے لگا۔پھر فرمایا کہ ایک وقت تو خدا تعالیٰ کی صِفت رحم اور درگزر کی کام کرتی ہے مگر ایک وقت ایسا آتا ہجے کہ جب دُنیا کے گناہ حد سے بڑھ جاتے ہیں تو خدا تعالیٰ کا غضب نازل ہوتا ہے پھر بھی ایسے وقت میں ایک سمجھانے والا ضرور آتا ہے جیسا کہ آج ہمارے درمیان موجود ہے اور اس زمانہ میں بائبل کی کثرتِ اشاعت جو ہوتی ہے باوجود یکہ عیسائی اپنے عقائد میں اس کو قابلِ عمل نہیں جانتے پھر کروڑوں روپے اس پر خرچ کرتے ہیں۔اِس میں بھی یہی حکمتِ الہٰی ہے کہ توحید اور عبادتِ الہٰی اور اعمال ِ صالحہ کا وعظ اس کے ذریعہ بھی تمام دُنیا پر ہو رہا ہے۔صحابہؓ نے اَھِلَّۃکے متعلق جو سوال کیا وہ اِس واسطے تھا کہ جب رمضان کی عبادت کے برکات انہوں نے دیکھے تو ان کو خواہش ہوئی کہ ایسا ہی دوسرے مہینوں کی عبادت کا ثواب بھی حاصل کریں اِس واسطے اُنہوں نے یہ سوال پیش فرمایا۔دو بڑے بڑے نشان آسمان پر دکھائے گئے سُورج گہن اور چاند گہن ماہِ رمضان میں۔ایسا ہی دو نشان یہ ہیں۔قحط اور طاعون۔فرمایا حج کے متعلق حضرت ابراہیمؑ کو خدا نے حکم دیا کہ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ تب سے آج تک یہ پیشگوئی پوری ہو رہی ہے۔جس طرح کبوتر اپنیکابُک کو دَوڑتے ہیں اس طرح لوگ حج کو جاتے ہیں۔زمانۂ عرب میں رسم تھی کہ سفر کو جاتے ہوئے کوئی بات یاد آتی تو دروازے کے راہ سے گھر نہ آتے۔اس سے خدا تعالیٰ نے منع فرمایا اور اس میں ایک اشارہ اِس امر کی طرف کہ ہر ایک کام میں اس راہ سے جاؤ اور اس دروازے داخل ہو جو خدا نے مقرر کیا اور اُس کے رسول نے دکھایا اور رسول کے خلفاء اور اس زمانہ کا امام بتلا رہا ہے۔فرمایا۔خدا چاہتا تو اپنے رسولؐ کے واسطے اپنے خزانے کھول دیتا اور تمہیں کچھ خرچ کرنے کی ضرورت نہ ہوتی مگر پھر تمہارے واسطے کوئی ثواب نہ ہوتا۔جب خدا کِسی قوم کو عزّت دینا چاہتا ہے تو یہی سُنّت اﷲ ہے کہ پہلے اس سے اﷲ کی راہ میں مالی، جانی، بدنی خدمات لی جاتی ہیں۔فرمایا۔اِس زمانہ میں غلام کے چھُڑانے کا ثواب مقروض کے قرضہ کے ادا کرنے سے ہو سکتا ہے۔(بدر ۱۰؍نومبر ۱۹۰۷ء صفحہ اوّل) اِس سوال کے جواب میں کہ ’’ اگر محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) پیغمبر ہوتے تو اُس وقت کے سوالوں کے جواب میں لاچار ہو کر یہ نہ کہتے کہ خدا کو معلوم ہے یعنی مجھے معلوم نہیں؟ ‘‘ فرمایا:۔’’خاکسار عرض پرداز ہے۔مخالف اور موافق لوگوں نے حصور علیہ السّلام سے جس قدر سوال کئے اُن کا جواب اگر ممکن تھا تو حضور علیہ السّلام نے ضرور دیا ہے۔قرآن میں حسبِ ذیل سوالات کا