حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 320
چیزیں ہیں سب مَرتے ہیں اور تم نے بھی ایک دن مَرنا ہے۔پس وہ کیا بدقسمت اِنسان ہے جو اپنے وقت کو ضائع کرتا ہے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم وقت کی کیسی قدر کرتے ہیں کہ جب ان کو رمضان کے فضائل معلوم ہوئے تو معًا دوسرے مہینوں کے لئے سوال کیا کہ قُربِ الہٰی کے اگر اَور ذرائع بھی ہوں تو معلوم ہو جاویں۔(الحکم ۲۴؍جنوری ۱۹۰۴ء صفحہ۱۲،۱۳) :انسان کو ایک زبردست طاقت کا خیال ہمیشہ رہتا ہے اور یہ انسانی فطرت کا خاصہ ہے کہ ہر ایک مذہب میں جنابِ الہٰی کی عظمت و جبروت ضرور مانا جاتا ہے۔جو لوگ اس سے مُنکر ہیں وہ بھی مانتے ہیں کہ ایک عظیم الشّان طاقت ضرور ہے جس کے ذریعہ سے یہ نظامِ عالَم قائم ہے اس کے قُرب کے حاصل کر نے والے تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔بعض کی عرض تو یہگ ہوتی ہے کہ جسمانی سامان حاصل کرکے جسمانی آرام حاصل کیا جاوے جیسے ایک دُکاندار کی بڑی غرض و آرزُویہ ہوتی ہے کہ اس کا گاہک واپس نہ جاوے۔ایک اہلِ کسب ایک دو روپیہ کما کر پھُولا نہیں سماتا لیکن ایسے لوگ انجام کار کوئی خوشحالی نہیں پاتے۔وجہ یہ ہے کہ ان کی خواہش محدود ہوتی ہے اسلئے محدود فائدہ اُٹھاتے ہیں اور محدود خیالات کا نتیجہ پاتے ہیں۔بعض اس سے زیاہ کوشِش کرتے ہیںاور ان پر خواب اور کشف کا دروازہ کھُلتا ہے اِس قِسم کے لوگوں میں بھلائی اور اخلاق سے پیش آنے کا خیال وارادہ بھی ہوتا ہے مگر چونکہ اُن کی عقل بھی محدود ہوتی ہے اِس لئے ان کی راہ بھی محدود ہوتی ہے۔ایک حَد کے اندر اندر رہتے ہیں اور ان کو مشیر بھی محدود الفطرت ملتے ہیں۔تیسری قِسم کے لوگ کہ کوئی بھلائی ان کی نظر میں بھَلی اور بُرائی بَدی کسی محدود خیال سے نہیں ہوتی بلکہ ان کی نظر وسیع اور اُس بات پر ہوتی ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی ذات وارائالوراء ہے۔کوئی عقل اور علم اُسے محیط نہیں بلکہ کُل دُنیا اس کی محاط ہے۔اس کی رضامندی کی راہوں کو کوئی نہیں جان سکتا بجز اسکے کہ وہ خود کسی پر ظاہر کرے۔یہ نظر انبیاء اور رُسل اور اُن کے خلفاء راشدین کی ہوتی ہے وہ نہ خود تجویز کرتے ہیں اور نہ دوسرے کی تراشیدہ تجاویز مانتے ہیں بلکہ خدا کی بتلائی ہوئی راہوں پر چلتے ہیں۔عرب کے نادانوں کو خیال تھا کہ جب وہ گھر سے حج کے لئے نکلیں اور پھر کسی ضرورت کے لئے اُن کو واپس گھر آنا پڑے تو گھروں کے دروازہ میں داخل ہونا وہ معصیّت خیال کرتے ہیں اور پیچھے سے چھتوں پر سے ٹاپ کر آیا کرتے تھے اور اسے ان لوگوں نے نیکی خیال کر رکھا تھا خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ باتیں نیکی میں داخل نہیں بلکہ نیکی کا وارث تو متّقی ہے۔تم اپنے گھورں میں دروازہ کی راہ سے داخل ہوا کرو اور تقوٰی اختیار کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔(الحکم ۲۴؍جنوری ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۳،۱۴)