حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 319
وہاں چاند کے لئے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے قمر کا لفظ استعمال کیا ہے اور اعلیٰ درجہ کا قمر ۱۳،۱۴،۱۵؍تاریخ کو ہوتا ہے اور اس کے گرہن کی بھی یہی تاریخیں ماہِ قمری کی مقرر ہے۔غرضکہ قمر کا لفظ اپنے حقیقی معنوں کی رُو سے مہدی کی علامت تھی لیکن لوگوں نے تصرّف کر کے وہاں قمر کے بجائے ہلال کا لفظ ڈال دیا ہے اور یہ ان کی غلطی ہے۔صحابہ کرامؓ کے اِس سوال پر کہ اَور چاندوں کے برکات و انوار سے ان کو اطلاع دی جاوے اﷲ جلّ شانہ،نے یہ جواب دیا۔یعنی جیسے ماہِ رمضان تقوٰی سکھانے کی ایک شے ہے ویسے ہر ایک مہینہ جو چڑھتا ہے وہ انسان کی بہتری کے لئے ہی آتا ہے۔انسان کو چاہیئے کہ نئے چاند کو دیکھ کر اپنی عمرِ رفتہ پر نظر ڈالے اور دیکھے کہ میری عمر میں سے ایک ماہ اَور کم ہو گیا ہے اور نہیں معلوم کہ آئندہ چاند تک میری زندگی ہے کہ نہیں۔پس جس قدر ہو سکے وہ خیر و نیکی کے بجا لانے میں اور اعمالِ صالحہ کرنے میں دِل و جان سے کوشِش کرے اور سمجھے کہ میری زندگی کی مثال برف کی تجارت کی مانند ہے۔برف چونکہ پگھلتی رہتی ہے اور اس کا وزن کم ہوتا رہتا ہے اِس لئے اس کے تاجر کو بڑی ہوشیاری سے کام کرنا پڑتا ہے اور اس کی حفاظت کا وہ خاص اہتمام کرتا ہے۔ایسے ہی انسان کی زندگی کا حال ہے جو برف کی مثال ہے کہ اس میں سے ہر وقت کچھ نہ کچھ کم ہوتا ہی رہتا ہے اور اس کا تاجر یعنی انسان ہر وقت خسارہ میں ہے۔۶۴۔۶۵ سال جب گذر گئے اور اس نے نیکی کاسرمایہ کچھ بھی نہ بنایا تو وہ گویا سب کے سب گھاٹے میں گئے۔ہزاروں نظّارے تم آنکھ سے دیکھتے ہو۔اپنے بیگانے مرتے ہیں۔اپنے ہاتھوں سے تم ان کو دفن کر کے آتے ہو اور یہ ایک کافی عبرت تمہارے واسطے وقت کی شناخت کرنے کی ہے اور نیا چاند تمہیں سمجھاتا ہے کہ وقت گزر گیا ہے اور تھوڑا باقی ہے اب بھی کچھ کر لو۔لمبی لمبی تقریریں اور وعظ کرنے کا ایک رواج ہو گیا ہے اور سمجھنے اور عمل کرنے کے لئے ایک لفظ ہی کافی ہے۔کِسی نے اِسی کی طرف اشارہ کر کے کہا ہے ؎ مجلسِ وعظ رفتنت ہَوس است مرگ ہمسایہ واعظ تو بس است پس اِن روزانہ موت کے نظّاروں سے جو تمہاری آنکھوں کے سامنے اور تمہارے ہاتھوں میں ہوتے ہیں عبرت پکڑو اور خدا تعالیٰ سے مدد چاہو اور کاہلی اور سُستی میں وقت کو ضائع مت کرو مطالعہ کرو اور خوب کرو کہ بچّے سے لے کر جوان اور بُوڑھے تک اور بھیڑ بکری اُونٹ وغیرہ جس قدر جاندار