حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 29
کی ایک بڑی جماعت سے مروی ہے کہ ان حروف کے ساتھ اسمائِ الہٰیّہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور یہ کہ یہ ان اسماء الہٰی کے ابعاض اور اجزا ہیں اور ضحاک نے اِس پر یہ اِستدلال کیا ہے کہ کلمہ کے بعض کو ذکر کر کے پُورا کلمہ مراد لینا یہ عربوں کی عادت میں داخل ہے اور اس کی تائید کے لئے اُس نے کچھ اَشعار پیش کئے ہیں بلکہ جو قرآنِ مجید کہ ہدایت اور شفا ہے اس میں بھی تم دیکھتے ہو کہ وقفوں کے رمُوز کے لئے حروف لکھے ہوئے ہیں مثلاًمطلق کا نشان ط ہے اور جائز کا نشان ج ہے اور رکوع کا نشان حاشیہ پر ع ہے۔اِسی طرح کتبِ احادیث میں نا۔انا۔نبا۔ح رموز ہیں اور علمِ کلام میں ہٰذا خلف کے عوض ہفؔ ہوتا ہے اور کتبِ فِققہ میں حجط وغیرہ رموز موجود ہیں اور کتبِ لُغت میں ل۔س۔ن۔ض۔ک۔ف۔ح بابوں کے رموز ہیں اور ت۔ع۔ج۔بلدہ اور معروف اور جمع کے رموز ہیں اور کتبِ طِبّ میں مکد مِنَ کُلِّ وَاحِد کی رمز ہے۔پس یہ سب رموز اس بات کے شاہد ناطق ہیں کہ یہ طریقہ اختصار عربوں میں دائر اور سائر ہے بلکہ قرآن مجید اور احادیث میں بھی موجود ہے اور اِس زمانہ میں تو قریباً ہر ایک قوم میں اِس کی اِس قدر کثرت ہے کہ جس کے ثبوت پیش کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔پس جبکہ یہ طریقِ اختصار زبانِ عرب بلکہ خود قرآن میں موجود ہے اور بہت سے جلیل القدر صحابہ ؓ اور اہل علم تابعین اور ائمہ سے مروی ہے تو اَ ب اس سے بے وجہ عدول کرنا اور محض احتمالاتِ بے وجہ سے ان کے معنوں میں اشتباہ پَیدا کر کے ان کو متشابہات میں داخل کرنا درست نہیں اور بعض لوگ بعض روایات کو بزعمِ خود ان معنوں کے مخالف تصوّر کرتے ہیں حالانکہ فی الحقیقت وہ انہی معنوں کی مؤید اور مثبت ہیں نہ مخالف۔مثلاًحضرت ابِن مسعودؓ اور ابِن عبّاسؓ اور شعبی سے مروی ہے کہ یہ حروف اسمائِ الہٰی ہیں۔تو اگرچہ بعض نے غلطی سے اِس روایت کو پہلی روایت کے خلاف خیال کیا ہے لیکن فی الحقیقت یہ اس کی مؤید ہے کیونکہ دونوں روایتوں کا مطلب یہ ہے کہ ان حروف سے مراد اسمائِ الہٰی ہے اگرچہ اِس قدر فرق ہے کہ پہلی میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ حروف اسمائِ الہٰی پر اِس لئے دلالت کرتے ہیں کہ یہ اُن کی جُزو ہیںاور دوسری روایت میں یہ نہیں بیان کیا گیا بلکہ جُزو کا کُل پر بلکہ بدل کا مبدّل منہ پر اطلاق کر کے انہی حروف کو اسماء بول دیا ہے اور یہ استعمال عام اور شائع ہے اور ان دونوں روایتوں کے متحد المطلب ہونے پر یہ بڑا قرینہ ہے کہ قائل دونوں کے ایک ہی ہیں اور دوسری کی عبارت ان معنوں کی متحمّل ہے جو کہ پہلی کے معنی ہیں۔اِسی طرح بعض سے مروی ہے کہ یہ حروف اسمائِ الہٰی