حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 305
:یعنی نفلی روزوں کو مثلاً ۱۴۔۱۵ میں نہ رکھ سکے تو پھر رکھ لے۔:ایک آدمی کے کھانے کے بدلے تین چار کا کھانا دے دے۔(تشحیذالاذہان جلد نمبر۸ نمبر۹ صفحہ ۴۴۱) :قرآن شریف کا طرز ہے کہ پہلے عام فضائل سکھاتا ہے پھر خاص فضیلت کی بات۔اِسی طرح پہلے عام رذائل سے ہٹاتا ہے پھر اَرذل الرذائل شرک سے۔پہلے عام بات کا حکم ہوتاہے پھر خاص کا۔مثلاً پہلے عمرہ وغیرہ کا ذکر ہے پھر حج کا۔پہلے صدقات کی ترغیب ہے پھر زکوٰۃ کی۔اِسی طرح پہلے یہاں عام طور پر نفلی و فرضی روزوں کا حکم دیا ہے پھر رمضان کے روزوں کا حکم دیتا ہے۔پہلے شھرِرمضان کی فضیلت بیان کی ہے کہ اس میں قرآن شریف نازل ہؤا۔چونکہ قرآن کا اطلاق جزوِ سورہ پر بھی ہو سکتا ہے اِس لئے اِس کا یہ مطلب نہیں کہ تمام قرآن ماہِ رمضان میں نازل ہؤا ہے بلکہ صرف ایک جزوسورۃ کا نزول بھی کافی ہے۔مَیں نے جو تحقیق کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور نبیٔ کریم صلّی اﷲ علیہ وسلّم جن دنوں غارِ حرا میں عبادت فرمایا کرتے تھے وہ دن رمضان