حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 304 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 304

  :اور جو صَوم کی طاقت رکھتے ہیں یعنی جنہیں روزے رکھنے میسّر آ جاویں۔:وہ ایک مسکین کا کھانا بپور صدقہ دیں۔یہ صدقۃ الفِطر کی طرف اشارہ ہے۔چنانچہ تعامل سے ثابت ہے کہ ہر روزہ دار نمازِ عید سے پہلے ایک مسکین کا کھانا صدقہ دیتا ہے اور میرا اپنا طرز پسندیدہ جو آثارِ سَلف کے مطابق ہے یہ ہے کہ خود روزہ کھا اور اپنی روٹی کِسی غریب کو کھلا دی اور جو لوگ اس کے یہ معنے کرتے ہیں کہ جو لوگ طاقت نہیں رکھتے وہ فدیہ دیں یہ بھی ٹھیک ہے۔نفلی روزوں میں ایسا کر لیں کہ ہر دو شنبہ و جمعہ و ایّامِ بیض کو روزہ نہیں رکھ سکتے تو اس روز مسکین کو کھانا کھِلا دیا۔رسول کریم صلی اﷲعلیہ وسلم نے ایسا کیا کیونکہ آپ تو ماہِ صیام میں موسمِ بہار کی ہَوا سے بڑھ کر جُودوسخا میں ہوتے تھے۔:جو شخص کوئی نیکی خوش دِلی سے کرے وہ بہت اچھی ہے اور یہ کہ روزہ رکھنا تو بہت ہی مفید ہے اِس سے دُعا کی قبولیّت ہوتی ہے۔صبرواستقلال اور نواہی سے بچنے کی مشق ہوتی ہے اپنی اِصلاح ہوتی ہے۔یہ بات یاد رہے کہ کمزور لوگوں کے لئے اِس قِسم کے مجاہدات منع ہیں جن میں روزہ رکھتے ہوں اور وہ اخیر میں خشکی دماغ سے نیم سَودائی ہو جاویں اور کسی کام کے نہ رہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۸؍اپریل ۱۹۰۹ء) :ہر مہینے میں تین یا ہردہائی میں ایک۔:جو روزہ اچھی طرح رکھ سکتے ہیں۔حدیث میں ہے اَیُّکُمْ یُطِیْقُ ذٰلِک۔وہ بعض قصوروں کے کفّارہ میں فدیہ ( صدقۃ الفطر) دے دیں۔