حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 303 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 303

زور سے پٹّھے پھٹے جاتے ہیں… بیوی بھی حسین، نوجوان اور صحیح القُوٰی موجود ہے مگر روزہ دار اُس کے نزدیک نہیں جاتا۔کیوں؟ صرف اِس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ اگر جاؤں گا تو خدا تعالیٰ ناراض ہو گا۔اُس کی عدولِ حکمی ہو گی۔اِن باتوںسے روزہ کی حقیقت ظاہر ہے کہ جب انسان اپنے نفس پر یہ تسلّط پیدا کر لیتا ہے کہ گھر میں اس کی ضرورت اور استعمال کی چیزیں موجود ہیں مگر اپنے مَولیٰ کی رضا کیلئے وہ حسبِ تقاضائے نفس ان کو استعمال نہیں کرتا تو جو اشیاء اس کو میسّر نہیں اُن کی طرف نفس کو کیوں راغب ہونے دے گا۔رمضان شریف کے مہینہ کی بڑی بھاری تعلیم یہ ہے کہ کیسی ہی شدید ضرورتیں کیوں نہ ہوں مگر خدا کا ماننے والا خدا ہی کی رضامندی کیلئے ان سب پر پانی پھیر دیتا ہے اور ان کی پرواہ نہیں کرتا۔قرآن شریف روزہ کی حقیقت اور فلاسفی کی طرف خود اشارہ فرماتا اور کہتا ہے روزہ تمہارے لئے اِس واسطے ہے کہ تقوٰی سیکھنے کی تم کو عادت پڑجاوے۔ایک روزہ دار خدا کے لئے ان تمام چیزوں کو ایک وقت ترک کرتا ہے جن کو شریعت نے حلال قرار دیا ہے اور ان کے کھانے پینے کی اجازت دی ہے صرف اِس لئے کہ اس وقت میرے مولیٰ کی اجازت نہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ پھر وہی شخص ان چیزوں کو حاصل کرنے کی کوشِش کرے جن کی شریعت نے مطلق اجازت نہیں دی اور وہ حرام کھاوے۔پیوے اور بدکاری میں شہوت کو پورا کرے۔(الحکم ۲۴؍جنوری ۱۹۰۴ء صفحہ۱۲) صَوم ایک محبّتِ الہٰی کا بڑا نشان ہے۔روزہ دار آدمی کسی کی محبّت میں سرشار ہو کر کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے اور بیوی کے تعلّقات اس سے بھُول جاتے ہیں۔یہ روزہ اسی حالت کا اظہار ہے۔(بدرؔ۱۲؍جنوری ۱۹۱۰ء ) روزے داری کا سِرّیہ ہے کہ سلیم الفِطرت پیاس کے وقت گھر میں دُودھ، بالائی ، بَرف رکھتا ہے کوئی اس کو روکنے والا نہیں۔بھُوک کے وقت گھر میں انڈے، مُرغیاں ، پلاؤ موجود ہے اور کوئی روکنے والا نہیں۔قوّتِ شہوانیہ موجود۔گھر میںاپسرا دِلرُبا موجود۔پھر اس کے نزدیک نہیں جاتا۔صرف الہٰی حکم کی پابندی سے وہ رُکتا ہے۔اِس مشق سے وہ حرام کاری حرامخوری سے کِس قدر بچے گا۔(نورالدین صفحہ ۲۱۶،۲۱۷ ایڈیشن اوّل)