حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 297
پر اور اﷲ کے نبیوں پر ایمان ہو۔پھر خدا کی راہ میں کچھ دے۔مَیں نے تجربہ سے آزمایا ہے جو کنجوس ہو وہ حق پر نہیں پہنچتا۔بعض دفعہ سخاوت والے انسان کے لئے کِسی محتاج کے دل سے دعا نِکلتی ہے۔جا تیرا دونوں جہانوں میں بھلا! اور پھر وہ عرش تک پہنچتی ہے اور اسے جنّت نصیب ہو جاتا ہے۔ایک یہودی تھا وہ بارش کے دنوں میں چڑیوں کو چوگا ڈالا کرتا۔بزرگ مُلاّ تھا اُس نے حقارت سے دیکھا اور یہ مُلّا بڑی بدبخت قوم ہوتی ہے۔ایسا ہی گدّی نشین مُلّا نمبردار کے ماتحت ہوتا ہے اور گدّی نشین کو تو سب کچھ حلال ہے۔رنڈیاں اُن کے دربار کی زینت ہیں۔نماز روزہ کو جواب دے رکھا ہے۔بزرگوں کے نام سے کھاتے ہیں۔خیر ایک وقت آیا کہ وہ یہودی مسلمان ہؤا۔وہ حج کو گیا۔وہاں مُلّا بھی حج کر رہا تھا۔اپنا روپیہ کب خرچ کیا ہو گا۔کرایہ کا ٹٹو بن کر گیا ہو گا۔یہودی نے کہا۔دیکھا۔وہ چوگا ڈالنا ضائع نہ گیا۔ایک واقعہ رسولِ کریم صلّی اﷲ علیہ وسلّم کے زمانے میں بھی لیا ہؤا کہ کسی نے سَو اُونٹ دیئے تھے۔پوچھا۔کیا وہ اکارت گئے۔فرمایا نہیںاَسْلَمْتَ عَلٰی مَا سَلَفَ مِنْ خَیْرٍ۔اِسی سے تو تمہیں اسلام کی توفیق ملی۔پس فرماتا ہے کہ مال دو۔باوجود مال کی محبّت کے غیروں کو دیتے ہو مگر رشتہ داروں کے دینے میں کیا مضائقہ ہوتا ہے۔فرمایا ان کو بھی دو اور یہ نہ کہو کہ اس کے باپ کے دادا کو ہمارے چچا کے نانا سے یہ دشمنی تھی۔پھر فرمایا یتیموں کو، مسکینوں کو، مسافروں کو دو۔اﷲ کے نیک کاموں ، اسلام کی اشاعت میں خرچ کرو۔مشکلات کے تین وقت آتے ہیں۔ایکؔ قرض۔سو اس میں بھی امداد کرو۔ایک غریبی جس میں انسان بہت سی بدیوں کا اِرتکاب کر گزرتا ہے۔ایک بیماری۔فرمایا ان سب میں استقلال سے کام لو۔(بدر۲۹؍جولائی۱۹۰۹ء صفحہ۲)