حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 291
پھر تیسرا مقام آدم کے قصّے میں ہے۔چوتھی بار یہاں ذکر کیا ہے اور مَیں نے بارہا بتایا ہے کہ وہ تمام پاک تحریکیں جن کا انجام بخیر ہو ملائکہ کی طرف سے ہوتی ہیں۔: پھر اﷲکی رضامندیوں کی راہیں جہاں مذکور ہیں وہ اس کی بھجوائی ہوئی کتابیں ہیں ان کا ماننا ضروری ہے۔انسان اگر جنابِ الہٰی کے صفات سے آگاہ نہیں۔ملائک کی تحریک کو نہیں سمجھتا تو کلامِ الہٰی ہی سے سمجھے جو خدا کی جناب سے غیب کی آگاہی پانے والوں کو عطا ہوتی ہے۔اﷲ کی کتابوں میں سے سب سے جامع کتاب قرآن مجید اور تمام کمالاتِ انبیاء کا جامع محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ہے۔آدمی پہلے قرآن کریم پڑھے پھر حضرت بنی کریمؐ کے سوانح عمری (جن میں احادیث شامل ہیں)۔مَیں کامل یقین سے گواہی دیتا ہوں کہ ایسا کامل انسان پھر پَیدا نہیں ہو سکتا۔اَب عملی حِصّہ کا ذکر آتا ہے یعنی محبّتِ الہٰی کے ساتھ مال کو خرچ کرے۔بعض لوگ کا ترجمہ کرتے ہیں وہ مال جس سے محبّت ہے مگر میرے نزدیک جس عمل میں اخلاص و ثواب نہ ہو وہ کسی کام کا نہیں۔ : اَب اِس مال کے مصارف بتلاتا ہے۔اِنسان غیروں کو دیتا ہے مگر رشتہ داروں کو نہیں دیتا کیونکہ ان سے بوجہ رات دن کے معاملات کے بعض اَوقات ناراضی بھی ہوتی ہے۔: پھر یتیم کو دے کیونکہ اس سے بدلے کی امّید نہیں۔: پھر ان لوگوں کو دے جو بے دست وپا ہیں۔میرے خیال میں تین قِسم کے لوگ مساکین ہو سکتے ہیں ایک تو وہ جو کام نہیں کر سکتا بوجہ معذوری اور یہ دو ۲ طرح ہے۔مثلاً ایک شخص لوہاری کا کام جانتا ہے مگر اوزار نہیں رکھتا۔سینا تو جانتا ہے مگر سُوئی اور قینچی و گز نہیں۔پس یہ اسباب ان کو مہیا کر دینے چاہئیں کیونکہ بغیر ان کے وہ بھی اپاہج کے حکم میں ہیں۔ایک اَور مثال سُنو کوئی کَسب جاننے والا ہے تو سہی مگر وہاں اس کے ہُنر کا کوئی قدردان نہیں یا دُکان چلانے کیلئے مکان نہیں۔پس اپاہج ہو عدم مال کی وجہ سے یا عدم اعضاء کی وجہ سے ہر دو ۲ صورت مستحق امداد ہے۔ا: مسافر کو بعض وقت بہت مشکلات پیش آ جاتی ہیں مثلاً نقدی چوری ہو گئی یا کِسی اتفاق سے چند پیسے کرایہ سے کم ہو گئے وغیرہ یا ٹکٹ گُم ہو گیا۔: سوال کرنے والوں سے آجکل بہت بُرا سلوک کیا جاتا ہے۔بعض لوگوں کی عادت ہے کہ جب کوئی سوالی ان کے سامنے آیا تو انہوں نے اس پر عیب لگانے شروع کر دیئے۔