حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 290
نیکی یہی نہیں کہ مُنہ کرو اپنے مشرق کی طرف یا مغرب کی۔ولیکن نیکی وہ ہے جو کوئی ایمان لاوے اﷲ پر اور پچھلے دن پر اور فرشتوں پر اور کتابوں پر اور نبیوں پر اور دیوے مال اس کی محبّت پر ناتے والوں کو اور یتیموں کو اور محتاجوں کو اور راہ کے مسافر کو اور مانگنے والوں کو اور گردنیں چھُڑانے میں اور کھڑی رکھے نماز اور دیا کرے زکوٰۃ اور پُورا کرنے والے اپنے اقرار کو جب پُورا کریں اور ٹھہرنے والے سختی میںاور تکلیف میں اور وقت لڑائی کے۔وہی لوگ ہیں جو سچّے ہوئے اور وہی بچاؤ میں آئے۔(فصل الخطاب حِصّہ دوم صفحہ۱۳۰) تُوَتُّوْا: چونکہ اس سے پہلے خدا تعالیٰوَ لِلّٰہِ الْمُشْرِقُ وَ الْمََغْرِبُ فرما چکا ہے کہ جدھر تمہارا رُخ ہو گا اُدھر ہی میرا رُخ ہے یعنی میری نصرت تمہارے ساتھ ہو گی اِس پر صحابہؓ نے خیال کیا ہو گا کہ ہم سے بڑا کون ہے کیونکہ جدھر ہماری توجّہ ہے ادھر ہی خدا کی توجّہ ہے اِس لئے فرمایا ہے تو ٹھیک مگر نیکی صرف جہاد و فتوحات سے وابستہ نہیں اور نہ صرف مشرق و مغرب کو فتح کر لینا کافی ہے بلکہ ضروری ہے کہمَنْ اٰمَنَ بِاﷲِ اﷲ تعالیٰ پر ایمان ہو۔وَ: اس وقت پر ایمان ہو جہاں انسان اپنے اعمال کے نتائج دیکھتا ہے۔یہ یاد رکھو کہ انسان کی فطرت میں یہ بات رکھی گئی ہے کہ جس کے ساتھ اس کا تعلق ہوتا ہے اس کی صفات کے خلاف حتّی الوسع کوئی بات نہیں کرتا اِس خیال سے کہ اس کی نظر سے گِر نہ جائے۔پس حضرت حق سُبحانہ، کے قُرب کے لیئے بھی ہم میں ایمان اور فضائل اور کفرو ر ذائل سے بچنے کی ضرورت ہے۔: پھر ایمان بالملائکہ بڑا ضروری ہے۔میرے خیال میں ہے کہ یہ چوتھی مرتبہ ملائکہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ایک تو وہاں بیان ہؤا جہاں یہود کی خفیہ سو سائٹیوں کا ذکر کیا ہے جنہوں نے ہاروت ماروت کی مدد سے اس زمین کو ہرت و مرت کر دیا۔پھر دوسرا وہ مقام ہے جہاں بتایا ہے کہ ایک وہ علوم ہیں جن کا تعلق قلب کے ساتھ ہے اور ایک وہ جن کا تعلق دماغ کے ساتھ ہے ان دونوں میں جو تحریک کرنے والے سردار ہیں ان نام جبرئیل و میکائیل ہے۔