حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 288 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 288

کچھ بیان ہو چنانچہ یہاں ایک مثال اِس آیت میں ذکر کر دی گئی ہے۔مَآ اَنْزَلَ اﷲُ مِنَ الْکِتٰبِ:جو کچھ اُتارا اﷲ نے ایک کامل مجموعہ میں۔ثَمَنًا قَلِیْلًا: مُول بہت تھوڑا۔یعنی دُنیا۔جیسے فرمایا  (النّساء:۷۸) : اِس طرزِ عمل کا نتیجہ سوا اِس کے نہیں کہ جَل بھُن کر اندر ہی اندر کباب ہوتے رہیں۔: لوگ اپنا مال، اپنی دولت، اپنی عزّت، اپنی آبرو کسی بڑے کی بات سُننے کے لئے خرچ کر دیتے ہیں۔پس اﷲ کی ذات سے جو تمام حسینوں ، عالموں اور بادشاہوں کا خالق ہے کلام کرنے کو کیوں دل نہ تڑپتا ہو گا۔سو خدا تعالیٰ ایسے لوگوں کو دوسری سزا یہ دے گا کہ ان سے کلام نہ کرے گا۔اندھا آدمی جو دیکھنے کے عجائبات سے واقف نہیں ہوتا وہ اگر دید کی حرص نہ کرے تو تعجّب نہیں۔اِسی طرح جسے کلامِ الہٰی کی عذوبت سے آگاہی نہیں وہ اگر اسے عذاب نہ سمجھے تو نہ سمجھے یہ ہے بڑا عذاب۔پھر ایک اَور دُکھ ہو گا وہ یہ کہ مُزَکّٰی نہ کرے گا بلکہ ان کے لئے عذاب ہے۔عَذَابٌ اَلِیْمٌ:یہ عذاب عذوبت والا نہیں بلکہ دُکھ دینے والا۔(ضمیمہ اخبار بدرؔقادیان یکم اپریل ۱۹۰۹ء)   :ان لوگوں نے حرام خوری سے کیا فائدہ لیا سوا اِس کے کہ ضلالت کو ہدایت کے بدلے خریدا۔یہ اِس طرح کہ حرام خوری سے دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔جب دعائیں قبول نہ ہوئیں تو یہ کہہ دیا کہ اچھا دعائیں بھی دیکھ لیں۔اِس قول کا نتیجہ کُفر ہے۔پس بجائے اسکے کہ مغفرت حاصل کریں انہیں عذاب ہو گا۔: ان کے نظّارے دیکھنے والے یہ کہیں گے۔بعض صوفیوں نے بھی بعض جُرأت کے کلمے کہے ہیں۔مثلاً یہ کہ دوزخ میں کیا رکھا ہے حالانکہ وہ دُنیا کی ایک معمولی تکلیف کو تو برداشت کر نہیں سکتے۔مثلاً تپ چڑھی ہو تو ہال پکار سے شور برپا