حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 27 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 27

اسلامیوں سے بڑھ چڑھ کر ان حروفِ مقطّعہ کے استعمال میں مبتلا دکھائے جائیں اور ہم نے تو صحابہ کرامؓ کے اقوال سے ان کے معانی کو ثابت کیا ہے مگر معترض لوگ اَ۔اُ۔م کے معنی ملہمان وید کے صحابہ سے بتائیں تو سہی! دو اَرب برس کی تصنیف کتاب کونسی ہے جس میں یہ معانی لکھے ہوئے ہیں جو سندھیا ودھی بلکہ ستیارتھ کے پہلے ہی صفحہ میں لکھے ہیں اور پھر جب اسلام کی کتب میں یہ معانی موجود ہیں تو ان پر اعتراض کیوں ہے اور اِس طرح اختصار سے کلام کرنا تو عربی علوم میں عام مروّج ہے بلکہ اس کے علاوہ کئی طریق سے اختصار کیا جاتا ہے مثلاًبَسْمَلَ۔حَمْدَلَ۔حَوْقَلَ۔رَجَّعَ۔ھَلَّلَ اورمثلاً خود قرآن کریم کے آیات کے نشان پر ط مطلق اور ج جائز۔صؔ صلی کا اختصار ہے اور قرآنوں کے اُوپر ع رکوع کا چنانچہ اِس طرح کے نشانوں میں اُوپر کا نشان پارہ کا یا سورۃ کا اور اُوپر والا اگر پارہ کا نشان ہے تو نیچے والا سورۃ کا اور اگر اُوپر والا سورۃ کا ہے تو نیچے والا پارہ کا۔درمیانی ہندسہ آیات رکوع کا نشان ہے۔علمِ قرأت میں فمی بشوق کے مقطّعات سات منازل قرأت کا نشان ہے۔علمِ حدیث میں نا۔انا۔ح۔ت۔ن۔د۔ق۔م۔خ۔حدّثنا۔اخبرنا۔حول السند۔ترمذی۔نسائی۔ابوداؤد۔متفق علیہ۔مسلم و بخاری کے نشان ہؤا کرتے ہیں۔علمِ فِقہ میں صدہا علامات ہوتی ہیں۔ان کا ایک فقرہ ہے مسئلہ البئر حجط۔کنوئیں کے پانی میں ایک خاص امر میں اختلاف پر لکھا ہے کہ اِس وقت پانی نجس ہؤا ہے یا بر حال رہتا ہے یا طاہر و پاک رہتا ہے۔علمِ صَرف میں سؔ سمع یسمع کا نشان، کؔکرم، نؔ نصر ،ض ضرب کا،ف فتح یفتح کا۔نحو میں ط عطف کا نشان ، حد تعلق کا، مف مفعول کا وغیرہ۔لغتؔ میں ۃیلدہ کا،ج جمع کا، کاف کسرہ عین ماضی، فتح عین مضارع کا نشان ہے۔طِبّ میں مکدمن کل واحد کا نشان جس کے معنٰی ہیں ہر ایک سے۔عقلی جواب۔قبل اِس کے کہ عقلی جواب بیان ہو ہمیں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ عقلاء کی بعض اصطلاحات بیان کی جاویں اور اِس وقت ہم صرف ویدک معتقدوں اور اسلامی فلسفیوں کی اصطلاحات پر اکتفا کرتے ہیں۔علّتِ فاعلیہ یا فاعل کام کرنے والے کو کہتے ہیں۔سنسکرت (میں) اِس کا نام نست کارن ہے۔علّتِ مادیہ: مادہ جس سے کوئی چیز بنتی ہے اس کو اپاوان کارن کہتے ہیں۔علّتِ صوریہ صورت۔شکل اور آلات وغیرہ کو سادہارن کارن کہتے ہیں۔علّتِ غایتہ اصل مقصود کو پریوجن کہتے ہیں مثلاً اِس کتاب