حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 285
ِ الہٰی بھی مال والوں پر نازل ہوتا ہے۔خدا کی ہدایت سے محرومی بھی اکثر مال والوں کے حصّہ میں آئی ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے (الانعام:۱۲۶)ایک حدیث میں ہے کہ اِبْلِیْسُ کَانَ مِنْ خُزَّانِ الْجَنَّۃِ۔گویا آدم کی مخالفت میں جس گروہ کو بڑی محرومی ہوئی وہ بھی مالداروں ہی کا گروہ تھا۔ایک دفعہ مولوی ریاض الدین احمد نے مجھ سے پوچھا کہ پانچ آدمی قوموں کے لیڈر سمجھے جاتے ہیں کیشب چندر، دیانند، رائے موہن لال، سرسیّد ، مرزا صاحب۔آپ کوئی موٹا سامابہ الامتیاز ان میں بتائیں۔مَیں نے کہا بس یہ دیکھ لو کہ اکابر کِس طرف گئے ہیں اور غریب کس طرف آئے ہیں۔اوّل اوّل خدارسیدوں کے ساتھ انہی کو تعلق ہوتا ہے جو بڑے مالدار نہ ہوں۔ہارون رشید مکّہ میں گیا تو ابن المبارک کو بھی ساتھ لیتا گیا جو اہل حدیث و اہل باطن میں عظیم الشّان عالم تھا۔جہاں جہاں ملاقات کو جاتا اس شخص کے مذاق کے مطابق اپنے ہمراہ کسی معتمد کو لے جاتا۔فُضَیل عیاض سے ملاقات چاہی تو ابن المبارک سے اِستدعا کی۔یہ گئے۔باہر سے دروازہ کھٹکھٹایا۔اندر سے آواز آئی۔کون ہے ؟ جواب دیا۔ابنِ مبارک۔کہا۔مَرْحَبَایَا اَخِیْ وَ صَاحِبِیْ۔پوچھا۔میرے ساتھ بھی ایک شخص قریشی ہے۔کہا مجھے کِسی قریشی کی ملاقات پسند نہیں۔کہا میرا تم پر حق ہے۔وہ بولا۔ہاں۔کہا پھر اسے مجھ پر ایک حق ہے۔کہا۔اچھا۔ہارون رشید خاموش بیٹھ گیا۔فضیل عیاض اسے دیکھ کر کہنے لگے۔یہ جوان ہے تو خوبصورت مَیں دعا کر تا ہوں کہ جہنّم سے بچ جائے۔پھر جہنّم میں پڑنے کی وجوہات بتلائیں جس پر ہارون رشید دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔وہ کونسی قوّت تھی جو ایک بادشاہِ رُوئے زمین کو یُوں ڈانٹ بتانے کی جُرأت دے رہی تھی۔صرف حلال خوری۔ایک دفعہ ہارون رشید پھر گیا اور ایک ہزار دینار پیش کیا۔فُضَیل نے بہت ناراضی کا اظہار کیا اور کہا اسے میرے سامنے سے اُٹھا لو یہ بَیت المال کا ہے اور تمہیں اس سے بے تحقیق دینے کا کوئی حق نہیں۔اس کے بعد ایک لونڈی گھر سے نکلی اور اس نے کہا ہم کئی دن سے فاقے میں ہیں اور یہ بُڈھا روپیہ لانے والوں کو جھڑک دیتا ہے۔اس پر آپ نے نرمی سے اُسے سمجھایا کہ دیکھو حلال بڑی نعمت ہے۔ہارون رشید نے چاہا کہ گھر والو ںکو یہ روپیہ دے مگر انہوں نے بھی نہ لیا۔جو حلال رزق چاہتے ہیں اﷲ تعالیٰ انہیں غیر معمولی حوصلہ دیتا ہے اور انہیں اپنی جناب سے رزق عطا فرماتا ہے اور حرام رزق سے کسی نہ کسی حیلے سے بچا لیتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان یکم اپریل ۱۹۰۹ء)