حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 282 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 282

مرض بڑھتا جاتا ہے مگر بچپن میں اس کاکوئی علاج نہیں کیا جاتا۔حالانکہ ؎ سرِ چشمہ شاید گرفتن بمیل چُو پُرشد نشائد گذشتن بہ بیل ایک سچّی مثل ہے آم کا درخت ہے جب اس کا پَودہ زمین سے نکلے تو اُکھیڑا جا سکتا ہے مگر جب وہ بڑا درخت بن جائے تو اُسے اُکھیڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔اِسی طرح بدیوں کی مثال ہے انہیں پہلے ہی روکو تا نیکی کی طرف تمہاری طبیعت رجوع رہے۔جس طرح نماز روزہ فرضِ عین ہے اسی طرح جھُوٹ سے ، بَد نظری سے ، بدسمعی سے ( جو زَنا کے مقدمات ہیں) سُستی سے، کاہلی سے، طمع سے، حرص سے، تکبّر سے بچنا بھی نہایت ضروری ہے۔مَیں نے اپنی تحقیق میں چودہ ضروریاتِ اسلام سمجھے ہیں اور وہ تمام نیکیوں اور بدیوں سے بچنے کے اصول ہیں۔(۱) اﷲ پر ایمان۔اس کے ساتھ اﷲ کی صفات پر ایمان ، اس کے افعال پر ایمان ، اس کی معبودیّت پر ایمان۔اتنا ایمان لانا ضروری ہے (۲) دوسری بات اﷲ کے فرشتوں کی تحریکوں پر ایمان (۳) تیسری بات اﷲ کے کلام پر ایمان (۴) چوتھی بات اﷲ کے پاک رسولوں پر ایمان(۵) پانچویں بات مسئلہ تقدیر پر ایمان جو تمام کامیابیوں کی جَڑ ہے (۶( چھٹی باتِ ختمِ نبوّت پر ایمان(۷) ساتویں بات بعث بعد الموت۔یہ سات حصّے نیکیوں کے اصول ہیں۔عملی حصّے میں پہلی ؔبات اﷲ کی توحید کا اقرار کرنا۔دوسریؔ بات ہر ایک قِسم کی بدعملیوں سے بچنا۔تیسریؔ بات نیک اعمال کی طرف اپنے تئیں متوجّہ کرنا۔چوتھی بات نماز۔پانچویںؔ بات زکوٰۃ۔چھٹیؔ بات روزہ۔ساتویںؔ بات حج۔مجھے نہایت افسوس ہے کہ ایسی تعلیم مَیں نے اپنی اسلامی کتابوں میں کم دیکھی ہے اور اگر ہے بھی تو انگریزی سکولوں کی پڑھائی کے اثر کے سامنے اس کا کچھ اثر نہیں۔جس قدر کوئی کِسی مصنّف کی کتاب پڑھتا ہے اس مصنّف کے عقائد و اعمال کا ایک مخفی اثر پہنچتا رہتا ہے اس کے ازالہ کے لئے ضروری ہے کہ انگریزی کتب کے خفیہ اثر کو دینی تعلیم سے زائل کیا جائے اور وہ دینی تعلیم قرآن مجید میں ہے۔اس سے پہلے توحید کا بیان کرتا آتا ہے اَب ایک گُر سمجھاتا ہے کہ لوگو! جو اِس زمین میں ہے اس سے کھا لو مگر دو شرطیں ہیں ایک تو یہ کہ حلال ہو۔بالباطل رزق نہ ہو۔حلال کا عِلم کیسا ضروری ہے اور حلال کیا مفید ہے اس کے متعلق بیان بہت طویل ہے۔پھر حلال ہو تو طیّب بھی ہو۔بعض لوگ مسلمانوں میں ایسے گزرے ہیں کہ وہ پلاؤ پکوائیں گے تو اس میں تھوڑی سی راکھ ڈالوئیں گے۔ایک صوفی کو مَیں نے دیکھا ہے کہ وہ حلوا، ساگ، دال، دُودھ، چھاچھ سب کو ملا کر رکھ چھوڑتا جب بُس جاتا تو کھاتا۔یہ طیّب رزق انہیں ہے۔بس مَیں تمہیں وصیّت کرتا ہوں کہ رزقِ حلال