حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 281
:ایک پاگل میرے ہاں رہتا تھا۔سو کر جاگتا تو چند منٹ کے لئے اس کے ہوش وحواس درست ہو جایا کرتے اُس وقت وہ کہتا ’’لَآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ۔حَسْنَا۔اس کا نام ہے) تُو نے کئی گھروں کو آباد کیا اور کئی گھروں کو اُجاڑا۔پر تیرے کام کچھ نہ آیا۔‘‘ دیکھو انسان جب خدا کو چھوڑ دیتا ہے تو اس کے عمل اس کے افسوس کا موجب ہو جاتے ہیں اور پھر ہر وقت اس کے دل میں ایک آگ لگی رہتی ہے۔یہ بات یاد رکھو کہ انسان جوانی میں بہت کچھ غلطیاں کرتا ہے مگر جو لاحول اور استغفار کے عادی ہوتے اور پاک صحبتوں میں رہ کر دعاؤں میں مشغول ہوتے ہیں اﷲ تعالیٰ ان کی دستگیری کرتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان یکم اپریل ۱۹۰۹ء) :بعض مسائل بہت ضروری ہیں۔مَیں نے بہت کم ایسی کتابیں پڑھی ہیں جن میں ان کا مذکور ہو۔ضروریاتِ ایمان ہماے علماء نے صرف یہ لکھی ہیں۔ایمان اﷲ پر، ملائکہ پر، کتب پر، رسل پر، یومِ آخرت پر، تقدیر پر اور عملی حِصّہ میں کلمہ مُنہ سے بولنا، کلمۂ شہادت کی شہادت، نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ۔بس اس کے آگے خاموشی ہے حالانکہ کئی باتیں اور بھی ایسی ہیں جو بعینہٖ اسی طرح فرضِ عین ہیں جیسے کہ نماز روزہ۔دیکھو۔یاد رکھو نیک کام کرنا بھی فرضِ عین ہے اور بدَی سے بچنا بھی فرضِ عین ہے۔کسی مسلمان سے پُوچھیں پنج ارکانِ اسلام کیا ہیں تو وہ سُنا دے گا مگر اس کے ساتھ چوری، حرام زدگی،رنڈی بازی اور قِسم قِسم کی بدکاریوں کا ذکر ہو تو افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس کی پرواہ نہیں کی جاتی۔جھُوٹ کا