حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 278
گندگیوں کو صاف کرتی ہے۔ایک بیماری کے جَرم فنا کرتی ہے۔ہَوا کی تعریف میں بھی خدا کی قدرتوں اور اس کے رحیم ہونے کے بہت سے نشانات ہیں۔پھر بادل جو آسمان و زمین میں مسخّر ہے گویا کہ وہ سَقّہ ہے جو جنابِ الہٰی کے امر کا منتظر ہے جہاں اسے حکم ہو پانی پہنچائے۔یہ سب کچھ بیان کر کے فرماتا ہے کہ اُولوالالباب کا تو اعلیٰ درجہ ہے معمولی عقل والے بھی اِس سے اِس نتیجہ تک پہنچ سکتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ ہے اور وہ رحمن و رحیم ہے اس کا مدِّ مقابل کوئی نہیں۔حُسن و احسان میں اس سے بڑھ کر کوئی نہیں۔پس عشق و محبّت بھی اسی ذات سے سزا وار ہیں۔اکثر لوگ ہیں جو کِسی کی تان پر، آواز پر، اداؤں پر ، مال پر، جاہ وجلال پر، علم و فضل پر، حُسنِ و خوبی پر لٹّو ہو جاتے ہیں مگر نہیں جانتے کہ یہ سب چیزیں فانی ہیں۔بہت سی عورتیں جو اپنے حُسنِ دِل آویز کی وجہ سے دوسروں کے اِبتلا کا موجب تھیں ایک وقت ان پر ایسا آیا کہ آتشک ہوئی اور ناک گِر گئی۔بہت سے ایسے امراء ہیں کہ ایک دَم میں غریب ہو گئے۔بہت سے ایسے علماء ہیں کہ حواس باختہ ہو گئے پھر جس کمال کی وجہ سے ان کی قدر ہوئی تھی وہ جاتا رہا تو کِسی نے بات تک نہ پوچھی۔ (البقرۃ:۱۶۶) (ضمیمہ اخبار بدر ؔقادیان۲۵؍مارچ ۱۹۰۹ء) بے شک آسمانوں اور زمین کی پَیدائش میں کہ دونوں میں کِس قدر مختلط القوٰی اشیاء موجود ہیں اور پھر ان میں کیسا باہم تعلق ہے۔تم کو کِس قدر وقتًا فوقتًا ضرورتوں کا سامنا ہوتا ہے پھر آسمان اور زمین میں کتنا سامان تمہاری ضرورتوں کے علاوہ تمہاری راحت کے واسطے بھی موجود ہے اور رات و دن کے اختلاف میں کہ کس طرح دونوں طول البلد میں بایں اختلاف کہ ہر ایک دوسرے کے پیچھے موجود ہے اور عرضِ بلد میں بایں اختلاف کہ کم و زیادہ موجود رہتے ہیں اور ان جہازوں میں جو لوگوں کے لئے ہر قِسم کے منافع کے واسطے سمندر میں پتلے پتلے پانیوں پر بڑے بڑے بوجھوں کے ساتھ دوڑ رہے ہیں اور اس میں کہ اﷲ تعالیٰ ویران وغیر آباد زمینوں کو اس پانی سے آباد کر دیتا ہے جس کو وہ آپ بادلوں سے اُتارتا ہے اور اس میں کہ پینے کے لئے پانی، کھانے کے لئے کھانے، غرض آسمانوں اور زمین کی پَیدائش اور رات دن کی روشنی و اندھیری اور بادلوں کی بارش کے بعد اﷲ تعالیٰ نے ہی زمین میں ہر قِسم کے جانداروں کو پھیلایا اور ہواؤں کے اِدھر اُدھر پھیرنے میں کہ کہیں ان میں کوئی حیوانات و بناتات کی زندگی کا باعث ہیں۔کہیں خون کے صاف کرنے اور گھِسے پِسے اجزا کے نکالنے میں مددگار۔کہیں جہازوں اور کشتیوں کے لے جانے میں مُفت کے مزدور۔کہیں بادلوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے میں فرمانبردار۔کہیں ضرورت کے موافق ذرّات کو جمع