حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 275
کا ملجاو ماوا ہے۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے جو میرے نام کے لئے صبر کر کے اس کے نتائج سے آگاہی حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ صفا و مروہ سے جا کر یہ شعور، یہ معرفت حاصل کریں کیونکہ وہ مقام اﷲ کی طرف سے صبر کے نتائج کے شعور کے حصول کا ذریعہ مقرر شدہ ہے جو حج کرنے جائے وہ وہاں ذرا چل کر پھر کر دیکھے کہ ہمارا فضل اس صابرہ پر کیسا ہؤا۔ہم کیسے قدر دان ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۵؍مارچ ۱۹۰۹ء) اِنَّ الصَّفَا: صبر کے نتائجِ نیک کی مثال۔ایک بیوی کے صبر سے مکّہ مرجعِ خلائق بن گیا۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ۴۴۰) صبر اور پھر اس پر اَجر کی ایک مثال بیان فرماتا ہے اور وہ صفا و مروہ ہے جس کو اﷲ تعالیٰ نے شعائر اﷲ سے قرار دیا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں حضرت ہاجرہؑ اپنے بیٹے اسمٰعیلؑ کے ساتھ چھوڑ دی گئیں۔وہاں آپ نے صبر سے کام لیا تو اس کا جو انجام ہؤا وہ صفا و مروہ پر جا کر دیکھ لو کہ کیسی گھمسان کی آبادی ہے اور کِس طرح پر دُور دراز علاقوں سے لوگ دیوانہ وار وہاں دوڑتے آتے ہیں اور کِس طرح پر وہ مقام جو بالکل ایک ویرانہ تھا خدا کے فضل سے مرجعِ خلائق بن رہا ہے اور کِس کثرت کے ساتھ برکات کا نزول ہوتا ہے۔پھر فرماتا ہے کہ حضرت ہاجرہؑ کی بھی خصوصیّت نہیں بلکہ جو صبر کرے اجر پائے گا۔۔(تشحیذالاذہان جلد ۷ نمبر۷ صفحہ ۳۲۸) تمہارا معبود صرف ایک ہی ہے جسے اﷲ کہتے ہیں۔ہر ایک کاملہ صفت سے موصوف۔ہر ایک بُرائی سے پاک۔بِن مانگے احسانات کرنے والا۔مانگنے والوں کے سوال و محنت پر عنایت فرما۔اس اﷲ کے سوا کوئی بھی معبود نہیں۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۲۴۸) اُوپر کی آیات میں کفّار پر لعنتوں کا ذکر ہے اَب ان سے بچنے کا ایک نسخہ بتلایا ہے (۱) اﷲ کی طرف جھُک جانا جو اپنی ذات و صفات میں یگانہ ہے۔یہاں اس معبود کی دو عظیم الشّان صفتوں کا ذکر ہے۔