حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 274
خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم خوف،جُوع،نقصان مال و جان و پھَل کے ذریعے تمہارے اندرونی صفات کو ظاہر کریں گے اور صابروں کو بشارت دے جن کا یہ حال ہے کہ جب انہیں مصیبت پہنچے تو وہ حال وقال سے کہتے ہیں ہم اﷲ کے لئے ہیں اور اسی کی طرف لَوٹ کر جانے والے ہیں۔صبر کی مختصر حقیقت یہ ہے کہ انسان ہر ایک نیکی اور نیک بات پر جما رہے۔بدی سے رُکار ہے۔گویا صبر تمام نیکیوں کا جامع ہے۔مشکل کے وقت بدی سے بچنا یہی تو صبر ہے۔شہوت میں عفت، غضب کے وقت حِلم ، حِرص کے مقابل میں قناعت ، وقار ، استقلال، ہمّت، عزم پر کار فرما رہنا۔شرع و عقلِ سلیم کی مخالفت نہ کرنی۔یہ سب صبر ہے۔(تشحیذالاذہان جلد ۷نمبر۷صفحہ ۳۲۷) ہاجرہ نام ایک عورت تھی جو میری تحقیق کے مطابق ملکِ مصر کی ایک شاہزادی تھی ابراہیمؑ کی کرامتوں کو دیکھ کر بادشاہ نے اپنی لڑکی ابراہیمؑ کے نکاح میں دے دی۔نوجوان اور خوبصورت اور باکرہ تھی اُس وقت ابراہیمؑ کی عمر ۸۴ سال تھی جبکہ وہ حاملہ ہوئی۔مَیں بہت ہی مختصر سُناتا ہوں کہ پہلی بی بی نے اسے نکلوا دیا۔اس پر اﷲ سے مکالمہ ہؤا کہ کیوں نکلی آپ نے عرض کیا کہ بڑی بی بی رہنے نہیں دیتی۔خدا نے فرمایا واپس جاؤ اور اس کی فرمانبردار ہو کر رہو۔اس صبر کے بدلے میں ہم تمہیں ایک لڑکا دیں گے جس کی اولاد تمام جہان کے لئے موجبِ ہدایت ہو گی اور آسمان کے تارے اور ریت کے ذرّے گننے آسان ہوں گے مگر تیری اولاد کو کوئی نہ گنِ سکے گا چنانچہ ایسا ہی ہؤا۔پھر جب دوبارہ اس بی بی نے ہاجرہ کو دُکھ دیا تو ابراہیمؑ انہیں مکّہ میں چھوڑ گئے۔ابراہیمؑ سے پوچھا کہ ہمیں کِس کے سپرد کرتے ہو؟ آپ نے اِس کا جواب نہیں دیا۔پھر پُوچھا کہ کِس کے حکم سے یہاں لائے ہو؟فرمایا خدا کے حکم سے۔اس پر اس نیک بخت صابرہ بی بی نے کہا تو پھر اَب تمہاری ضرورت نہیں۔اس بی بی کے پاس نہ روپیہ تھا نہ مال اسباب تھا نہ مویشی تھے۔بچّہ بھی چھوٹا تھا وہاں کوئی غمگسار نہ تھا۔درندوں کا بھی ڈر تھا کوئی آبادی بھی نہ تھی۔مگر اس صبر کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج مکّہ ایک عظیم الشّان شہر آباد ہے جو کروڑہا مخلوق