حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 273
پھلوں کو بھی خدا کی راہ میں خرچ کرو۔ اور ایسے لوگوں کو جو مصائب اور شدائد کے وقت ثابت قدم رہتے ہیں اور نیکی پر ثبات رکھتے ہیں۔خدا کو نہیں چھوڑتے اور کہتے ہیں کہ ہم سب الہٰی رضا کے واسطے ہی پیدا ہوئے ہیں۔جس طرح وہ راضی ہو اسی راہ سے ہم اس کے حضور اس کو خوش کرنے کے واسطے حاضر و تیار اور کمر بستہ ہیں۔ہم نے اس کے حضور حاضر ہونا ہے۔وہ اگر اس سے خوش نہیں تو پھر اس ملاقات کے دِن سُرخروئی کیسے ہو گی۔پس تم خود ہی پیشتر اس کے کہ خدا کی طرف سے تم پر خوف ، جُوع اور نقصِ اموال اور ثمرات کا اِبتلا آوے خود اپنے اُوپر ان باتوں کو اپنی طرف سے خدا کی خوشنودی کے حصول کے واسطے وارد کر لو تاکہ دوہرا اَجر پاؤ اور یہ قدم خدا کے لئے اُٹھاؤ تاکہ اس کا بہتر بدلہ خدا سے پاؤ۔یہ مصائب دینی نہیں بلکہ صرف معمولی اور دُنیوی ہوں گے۔زیادہ سے زیادہ یہ ہو گا کہ دشمن بُرا بھلا کہہ لے گا۔کوئی گندہ گالیوں کا بھرا اشتہار دے دیگا یا خفگی اور ناراضگی کے لہجہ میں کوئی بوداسا اِعتراض کر دے گا۔مگر اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ (اٰل عمران:۱۱۲)یہ تکلیف ایک معمولی سی ہو گی کوئی بڑی بھاری تکلیف نہ ہو گی۔دیکھو خدا نے ہم کو بڑی مصیبت سے بچا لیا کہ تفرقہ سے بچا لیا۔اگر تم میں تفرقہ ہو جاتا اور موجودہ رنگ میں تم وحدت کی رَسّی میں پروئے نہ جاتے اور تم تِتّر بِتّر ہو جاتے تو واقعی بڑی بھاری مصیبت تھی اور خطرناک اِبتلا۔مگر یہ خدا کا خاص فضل ہے۔اگر کچھ تھوڑی سی تکلیف ہم کو ہو گی بھی تو یہیں ہو گی اس کا مابعدالموت سے کوئی واسطہ یا تعلق نہیں بلکہ مابعد الموت کو باعثِ اجر اور رحمت ہو گی اور اس تھوڑی سی مشکل پر صبر کرنے اور مستقل رہنے اور سچّے دِل سے کہنے کا بہتر سے بہتر بدلہ دینے کی قدرت اور طاقت رکھنے والا تمہارا خدا موجود ہے وہ خاص رحمتیں جو کہ ورثۂ انبیاء اور شہدا ہوتی ہیں وہ بھی تمہیں عطا کرے گا اور عام رحمتیں بھی تمہارے شامِل حال کرے اور آئندہ ہدایت کی راہیں اور ہر مشکل سے نجات پانے کی، ہر دُکھ سے نکلنے ، ہر سُکھ اور کامیابی کے حصول کی راہیں تم پرکھول دے گا۔دیکھو یہ مَیں اپنی طرف سے نہیں کہتا بلکہ ’’ بلوحِ خدا ہمیں است‘‘ خدا کے وعدے سچّے ہیں اور خدا اپنے وعدے کا سچّا ہے۔آج کا مضمون اور اس کی تحریک محض خدا تعالیٰ ہی کی طرف سے دِل میں ڈالی گئی ہے ورنہ نہ مَیں نے اس کا ارادہ کیا تھا اور نہ اس کے واسطے کوئی تیاری کی تھی۔پس یہ خدا کی بات ہے۔مَیں تم کو پہنچاتا ہوں اور تاکید کرتا ہوں کہ ایسے اَوقات میں تم کثرتِ دعا، استغفار، درُود، لاحَول، الحمد شریف کا وِرد کیا کرو۔(الحکم ۱۴؍جون ۱۹۰۸ء صفحہ۸)