حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 265 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 265

افسوس کہ مسلمانوں کے پاس ایسا عمدہ نسخہ ہو اور پھر بھی وہ ناکام رہیں۔کسی کو بیبیوں کی نسبت شکایت کِسی کو قرض کی نسبت۔کسی کو عدمِ ترقّی کا شکوہ۔یہ سب کچھ کیوں ہے ؟ اِس لئے کہ استعانت کا یہ طرز چھوڑ دیا۔جب سلطنتِ اسلام موجود تھی تو اس وقت کی حالت کا ایک شخص نقشہ کھینچتا ہے ؎ شب چو عقدِ نماز بر بندم چہ خورد بامداد و فرزندم اس وقت کا یہ حال ہے تو آج جو کچھ ہؤا تھوڑا ہے۔دُنیا طلبی نے لوگوں کو پریشان کر رکھا ہے۔ایک مسلمان بادشاہ دہلی سے ملتان جاتا تھا خوا جہ فریدالدین سے اس کے وزیر کو عقیدت تھی۔اپنے پِیرو مُرشد کے آگے کچھ نقد روپیہ اور کچھ کاغذ رکھے۔نقد روپیہ تو خواجہ صاحب نے لے لیا اور کاغذ کی نسبت پوچھا۔یہ کیا ہے ؟ اس نے کہا۔یہ دس گاؤں بطور جاگیر پیس کرتا ہوں تالنگرخانہ وغیرہ کے خرچ میں کوئی دِقّت پیش نہ آئے۔فرمایا۔اِس کو اُٹھا لو۔حدیث میں آیا ہے کہ جس قوم میں زمینداری کا سامان آ جائے وہ ذلیل ہو جاتی ہے۔قرآن شریف سے استنباط فرمایا ہے جہاں یہودیوں کا واقعہ بیان فرمایا کہ (البقرۃ:۶۲) اور پھر(البقرۃ:۶۲)پھر کہتے ہیں کہ ایک شخص آیا اور تنگی معیشت کا ذکر کیا کہ اتنے روپیہ کے سوا میرے پاس کچھ نہیں۔ہنس کر کہنے لگے کہ میرے گھر میں ساری عمر میں اِتنا کبھی جمع نہیں ہوا۔یہ عجیب کیمیا ان کے پاس موجود تھی۔اہل اﷲ لوگ اپنی خواہشیں بہت مختصر رکھتے ہیں اور پھر انہیں حصولِ مطالب کا ایک گُر آتا ہے اور وہ گُر یہی ہے جو اُوپر بیان ہؤا۔:جو لوگ خدا کی راہ میں مقابلہ کرتے ہیں اور اس حالت میں فوت ہو گئے یہ مت کہو کہ وہ اپنی عمریں برباد کر گئے وہ عمریں برباد نہیں ہوئیں ان کے اعمال غیر منقطع ہیں اِس لئے انہوں نے حیاتِ جاوید پائی۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۵؍مارچ ۱۹۰۹ء) : مشکلات سے نکلنے کا علاج۔طاعتِ الہٰیہ کرو اور بدیوں سے بچو۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر ۹ صفحہ ۴۴۰) پیغمبرِ خدا صلی اﷲ علیہ وسلم مکّہ معظمہ میں تھے تو صرف ایک بُت پرست قوم آپ کی دشمن تھی لیکن اس دشمن کے ہوتے آپ کے کُنبہ اور قوم کے لوگ آپ کا ساتھ دیتے تھے۔آپ ان کے باریک منصوبوں کو بھی خوب سمجھتے تھے۔آپ کے اَتباع کو بہت مشکلات پیش آئے مگر جب آنحضرت ( صلی اﷲ علیہ وسلم) مدینہ میں پہنچے تو ہر ایک قِسم کی تکلیف بڑھ گئی کیونکہ ایک بُت پرست قوم تو دشمن تھی ہی مگر اَب اوسؔ اور خزرجؔ کے