حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 264
: پکّی باتیں۔: دوسرے مقام پر فرمایا ہے (ابراہیم:۸) (ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۵؍مارچ ۱۹۰۹ء) کَمَا اَرْسَلْنَا: اسی واسطے ہم نے رسول بھیجا۔(تشحیندالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۴۴۰ ستمبر ۱۹۱۳ء) :جہاں تک مَیں نے تجربہ کیا ہے دُکھوں، رنجوں، مصیبتوں وغیرھا مسائل کے صاف کرنے میں اور پیش آمدہ امور کے متعلق فیصلہ دینے میں اﷲ جلّ شانہ، نے جو راہ انسان کو دکھائی ہے اس سے بہت کم لوگ کام لیتے ہیں چنانچہ ایک راہ کا یہاں ذکر ہے۔فرماتا ہے۔اولوگو ! جو ایمان لا چکے ہو استعانت کرو تو اﷲ سے اور وہ بھی صبرو صلٰوۃ سے۔صبر سے مراد ہے روزہ اور بدیوں سے بچنا اور صلٰوۃ سے مراد ہے دعا۔ہر ایک تم میں سے اِس بات پر غور کرے کہ لوگ اپنے مقصود کے پُورا کرنے کے لئے باریک درباریک فِکر کرتے ہیں یہاں تک کہ مَیں نے بعض لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ رستہ میں اُنگلی اِدھر اُدھر گھماتے جاتے ہیں کہ ہم یہ کریں گے وہ کریں گے مگر یہ طریق جو اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ بدیوں سے بچ کر روزہ رکھ کر جنابِ الہٰی میں خشوع و خضوع سے دعا کریں اِس طریق پر انبیاء کے سوا دوسرے لوگ کم چلتے ہیں۔:ایسے لوگ جو صبر سے اور دعا سے استعانت کرتے ہیں اُن کے ساتھ ہم ہو جاتے ہیں۔مَیں نے مشکل سے مشکل امور میں اِس طریق کا تجربہ کیا اور مَیں شہادت دیتا ہوں کہ لَمْ (مریم:۵)