حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 253
اُٹھایا۔اَب مَیں دیکھتا ہوں کہ بہت سے لوگوں کو عیب شماری کا شوق ہے مگر مَیں سچ کہتا ہوں اور اپنے مشاہدہ سے کہتا ہوں کہ جو دوسروں کے عیب از راہِ تحقیر نکالتا ہے وہ مرتا نہیں جب تک خود اس عیب میں مُبتلا نہ ہو جائے۔اِس رکوع میں بھی ایسے ہی لوگوں کا ذکر ہے۔سُفَھَآئُ:جمع سَفِیْہِ۔ثَوْبٌسَفِیْہٌ وہ ردّی کپڑا جو بہت ہی خراب ہو۔سفیہ کہتے ہیں اُس شخص کو جو دینی دنیوی عقل عمدہ نہ رکھتا ہو۔قرآن کریم میں ہے (النّسآء:۶)یہ کام سفہاء کا ہے کہ دوسرے کی عیب شماری کرتے رہیں اور ہر وقت اعتراض ہی کرتے رہیں… مَاوَلّٰھُمْ: کِس چیز نے ہٹا دیا ان کو۔کَذٰلِکَ:بہ سبب ایسی ہی باتوں کے۔اسی لئے انہی تدبیروں سے۔یہاں کَذٰلِککے یہی معنے ہیں۔اُمَّۃً وَّسَطًا:اعلیٰ درجہ کے لوگ۔شُھَدَآئَ:نگران لِنَعْلَمَ:تاہم دیکھیں۔مِمَّنْ:ان لوگوں سے الگ کر کے۔اُٹھایا۔اَب مَیں دیکھتا ہوں کہ بہت سے لوگوں کو عیب شماری کا شوق ہے مگر مَیں سچ کہتا ہوں اور اپنے مشاہدہ سے کہتا ہوں کہ جو دوسروں کے عیب از راہِ تحقیر نکالتا ہے وہ مرتا نہیں جب تک خود اس عیب میں مُبتلا نہ ہو جائے۔اِس رکوع میں بھی ایسے ہی لوگوں کا ذکر ہے۔سُفَھَآئُ:جمع سَفِیْہِ۔ثَوْبٌسَفِیْہٌ وہ ردّی کپڑا جو بہت ہی خراب ہو۔سفیہ کہتے ہیں اُس شخص کو جو دینی دنیوی عقل عمدہ نہ رکھتا ہو۔قرآن کریم میں ہے (النّسآء:۶)یہ کام سفہاء کا ہے کہ دوسرے کی عیب شماری کرتے رہیں اور ہر وقت اعتراض ہی کرتے رہیں… مَاوَلّٰھُمْ: کِس چیز نے ہٹا دیا ان کو۔کَذٰلِکَ:بہ سبب ایسی ہی باتوں کے۔اسی لئے انہی تدبیروں سے۔یہاں کَذٰلِککے یہی معنے ہیں۔اُمَّۃً وَّسَطًا:اعلیٰ درجہ کے لوگ۔شُھَدَآئَ:نگران لِنَعْلَمَ:تاہم دیکھیں۔مِمَّنْ:ان لوگوں سے الگ کر کے۔اِیْمَانَکُمْ:تمہاری نمازوں کو۔حضرت نبی کریم (صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم) مکّہ معظمہ میں تھے اس وقت بَیت المقدس کی طرف مُنہ کر کے نماز پڑھتے تھے۔ہر قوم میں ایک نہ ایک مسئلہ بہت عزیز ہوتا ہے اور اس پر سب قوم متّفق ہوتی ہے۔دیکھو ہندو ہیں ان میں جھُوٹ، فریب،دغا،زنا،شراب سب کچھ ہے مگر ایک مسئلہ ہے ان میں قومیّت کا کہ برہمن کھتریوں سے بیاہ نہ کرے۔کھتری شودروں سے الگ رہیں۔اِس مسئلے کے کوئی خلاف نہیں کرتے۔ایک مسلمان جھُوٹ بول لے، چوری کرے، دغا دے، حرام خوری سے مال چھین لے۔سب کچھ کرے مگر مسلمان ہی سمجھا جاتا ہے لیکن اگر کوئی مسلمان سؤر کھا لے تو مَیں نہیں سمجھتا اسے کوئی مسلمان سمجھے حالانکہ دوسری حرام چیزوں کے مرتکب ہونے سے ایسا نہیں سمجھا جاتا۔اِسی طرح عرب والوں میں ایک مسئلہ تھا اور وہ مکّہ معظمہ کی تعظیم کا تھا۔وہ ہر بدی کا اِرتکاب کر لیتے تھے مگر کبھی مکّہ پر چڑھائی نہ کرتے۔چڑھائی تو درکنار اس کے حدود میں شکار نہ کرتے۔کوئی پناہ لیتا تو پھر اس سے تعترض نہ کرتے