حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 250 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 250

ہوئے۔سومؔ۔لَا(الاحقاف:۱۴)جس قدر خوف صحابہؓ کو درپیش تھے آخر وہ سب کے سب جاتے رہے۔وہ سعادت مند لوگ نہ صرف خود امن میں ہوئے بلکہ ایک جہان میں امن پھیلا۔جو خوف پیش آیا وہ دُور کیا گیا اور کوئی حُزن نہ تھا جو ان کے لئے قائم رہتا۔چہارمؔ۔(بنی اسرائیل:۱۰۶)یعنی اے نبی ہم نے تجھے حق کے ساتھ بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بھیجا چنانچہ ماننے والوں کو بشارتیں عطا ہوئیں اور مُنکروں کو سزائیں ملیں۔یہ نظّارہ بھی ایک دُنیا نے دیکھا۔پنجم ؔ۔ٌ(البقرۃ:۱۱۶)مشرق اور مغرب اﷲ کا ہے پس اے صحابہؓ جدھر تمہارا رُخ اُدھر ہی اﷲ کا رُخ۔اﷲ تعالیٰ کشائش والا اور جاننے والا ہے۔اِس آیت میں جو پیشگوئی تھی وہ جس شان و شوکت سے پُوری ہوئی بڑے بڑے معاندین و مخالفین اس کے قائل ہیں۔صحابہؓ کو خدا نے وہ عزم، وہ ہمّٹ ، وہ برکت دی کہ جدھر انہوں نے گھوڑوں کی باگیں اُٹھائیں۔فتح و ظفر استقبال کو آئی۔جس ملک پر فوج کشی کی فورًا تصّرف میں آیا۔ششم: یعنی اگر یہ کفّار روگردانی کرتے ہیں تو سو ااِس کے اَور کوئی بات نہیں کہ یہ پرلے درجے کی مخالفت و ضدّ میں ہے۔ان سب کے لئے اﷲ تجھے کافی ہے اور وہ سمیع علیم ہے۔اﷲ اﷲ تمام عمائد و رؤوسائِ مکّہ بلکہ بڑی بڑی ملکِ عرب کی بہادر قومیں ایک طرف۔عرب ہی کی نہیں بلکہ ان کے ساتھ ایران و شام والوں نے بھی بڑا بڑا زور لگایا اور انہوں نے اپنی طرف سے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔نہ صرف مال بلکہ اپنی جان تک ضائع کرنے سے انہوں نے دریغ نہیں کیا لیکن اِس ساری جدّوجہد کا نتیجہ یہ نکلا کہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کامیاب ہوئے اور یہ تمام مخالفین ناکام۔سارا جہان ایک طرف اور محمدِ عربی ( صلی اﷲ علیہ وسلم) ایک طرف۔ایک اﷲ نے سب کے مقابل میں کیسی کفایت کی۔تاریخِ عالَم اِس پر شاہد ہے ہمیں ظاہر کرنے کی حاجت نہیں۔(تشحیذالاذہان جلد ۷ نمبر۷ ۳۲۵ تا ۳۲۷)