حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 249
یعنی مظفّر و منصور ہوں گے۔دوسری پیشگوئی۔(البقرۃ:۲۶)چنانچہ اِس دُنیا میں ان کو باغات ملے۔تیسری پیشگوئی۔(الاحقاف:۱۴)لَا چنانچہ وہ خوف جاتا رہا نہ صحابہؓ صرف خود امن میں ہوئے بلکہ دوسروں کے امن کا موجب ہوئے۔چوتھی پیشگوئی۔(البقرۃ:۱۱۶)جدھر صحابہؓ نے قدم اُٹھایا وہی ملک تصّرف میں آیا۔پانچویں پیشگوئی۔(بنی اسرائیل:۱۰۶)چنانچہ ماننے والوں کو بشارتیں عطا ہوئیں اور مُنکروں کو سزائیں ہوئیں۔چھٹی پیشگوئی یہ ہے جو اُوپر بیان ہوئی۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۸؍مارچ ۱۹۰۹ء) یُوں تو قرآنِ مجید کا لفظ لفظ اعجاز ہے اور آیت آیت نشان۔لیکن اِس سے پہلے پارہ میں یہ سات پیشگوئیاں بہت زبردست ہیں:۔۱۔ (البقرۃ:۲۶)جو ایمان لائے جنہوں نے عمل صالح کئے ان کے لئے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں پڑی بہہ رہی ہیں۔دُنیا میں اِس کا نظّارہ یُوں نظر آیا کہ وہ تمام ممالک جو بوجہ اپنے باغات اپنی زرخیز زمین اور چشموں اور نہروں کے مشہور ہیں مسلمانوں کے قبضے میں آئے اور ایک مُلک کے بعد دوسرا مُلک اسی جیسا جب فتح کرتے اور یہ فتوحات پیہم ہوتھیں تو اِس آیت کے معنے کُھلتے تھے۔(البقرۃ:۲۶)یعنی جب جنّت سے کوئی پھَل ان کو دیا جائے گا تو وہ پکار اُٹھیں گے یہ تو وہی ہے جو پہلے ہم کو دیا جا چکا ہے اور دئے جائیں گے اس جیسا اَور۔دومؔ۔(البقرۃ:۶)یعنی جو غیب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور جو کچھ اﷲ کے دئے سے دیتے ہیں اور جو ایمان لاتے ہیں اُس پر جو تیری طرف اُتارا گیا اور جو کچھ تجھ سے پہلے نازل کیا گیا اور آخرت پر یقین لاتے ہیں یعنی مسلمان ہی مظفّر و منصور ہوں گے چنانچہ آخر ایک زمانہ نے دیکھا کہ صحابہ ؓ اپنے تمام مخالفین پر فتحیاب ہوئے اور اپنی ہر ایک آرزُو میں کامیاب