حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 23 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 23

سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃِ مَدَنِیَّۃُ  (:۲) مُقَطَّعات کی نسبت اِس زمانہ میںاعتراض ممکن تھا کیونکہ آزادی حد سے بڑھی ہوئی ہے مگر اﷲ تعالیٰ نے تمام متمدّن قوموں(جو انِتظام مدائن کو خوب کر سکیں) میں اس کا رواج دیکر انہیں مُلزم کر دیا۔یورپ ،امریکہ کے لوگوں کے لئے تو یہ مسئلہ صاف ہے کیونکہ وہ اپنی قلموں، دواتوں، پنسلوں اور چھڑیوںاور سِلے ہوئے کپڑوں کو مقطِّعات کے نام سے وابستہ کرتے ہیں۔ایف۔اے،بی۔اے،ایم۔اے کو تو سب لوگ جانتے ہیں۔ریلوں کے این۔ڈبلیو۔آر کو بھی اکثر سمجھتے ہوں گے اور بعض خطابات اور قومی دکانوں کے مقطّعات تو ذرا غور سے معلوم ہوتے ہیں مگر مخفی نہیں۔عرب میں بھی اِن مقطّعات کا رواج تھا چنانچہ بالام ایک مشہور شاعر گزرا ہے۔کی تشریح دو عظیم الشّان بزرگوں نے کی ہے جنہیں قرآن دانی میں سے نے بُرا نہیں کہا وہ عبداﷲبن عباس اور عبداﷲ بن مسعود تھے۔انہوں نے بالاتفاق ایک معنے کئے ہیں۔صحابہؓنے اِن معنوں کا اِنکار نہیں کیا اور نہ یہ کہا ہے کہ یہ احتیاط کے خلاف کرتے ہیں اِس لئے مَیں اِن معنوں کو اپنے فہم کے مطابق صحیح سمجھتا ہوں۔پھر ان کے بعد ہمارے زمانہ میں امام نے بھی یہی معنے کئے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ آپ نے ابن عباس اور ابِن مسعود کی تقلید سے یہ معنے نہیں کئے بلکہ اپنے ذوق سے بیان کئے۔وہ معنے یہ ہیں کہ اََنَا اﷲُ اَعْلَمُ مَیںاﷲ بہت جاننے والا ہوں۔اََنَا کا پہلا حَرف لے لیااﷲکا درمیانی اَعْلَمُک