حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 240 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 240

ہر ایک قِسم کی عزّت ابراہیم علیہ السّلام کو حاصل ہے اور یہ سب کچھ اَسْلَمْتُ کا نتیجہ ہے…یہ ایک خطرناک مرض ہے کہ بعض لوگ مامورین کے انذار اور عدمِ انذار کی پرواہ نہیں کرتے۔اُن کو اپنے عِلم پر ناز اور تکبّر ہوتا ہے اور کہتے ہیں کہ کتابِ الہٰی ہمارے پاس بھی موجود ہے۔ہم کو بھی نیکی بدی کا عِلم ہے۔یہ کونسی نئی بات بتانے آیا ہے کہ ہم اس پر ایمان لاویں۔اِن کم بختوں کو یہ خیال نہیں آتا کہ یہود کے پاس تو تورات موجود تھی۔اس پر وہ عمل در آمد بھی رکھتے تھے۔پھر ان میں بڑے بڑے عالم، زاہد اور عابد موجود تھے۔پھر وہ کیوں مردُود ہو گئے۔اِس کا باعث یہی تھا کہ تکبّر کرتے تھے۔اپنے علم پر نازاں تھے اور وہ اطاعت جو کہ خدا تعالیٰ اَسْلِمْکے لفظ سے چاہتا تھا ان میں نہ تھی۔ابراہیمؑ کی طرزِ اطاعت جو کہ خدا تعالیٰ اَسْلِمْکے لفظ سے چاہتا تھا ان میں نہ تھی۔ابراہیم ؑ کی طرزِ اطاعت ترک کر دی۔یہی بات تھی کہ جس نے ان کو مسیح علیہ السّلام اور اس رحمۃٌ للعالمین نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے ماننے سے جس سے توحید کا چشمہ جاری ہے باز رکھا… ابراہیم علیہ السّلام اسلام کی وجہ سے دُنیا میں معزّز و مکرّم ہوئے… مسلمان بنو۔اَسْلِمْ کی آواز پر اَسْلَمْتُ کا جواب عمل سے دو۔دوست احباب رشتہ داروں اور عزیزوں کو نصیحت کرو کہ اسلام اپنے عمل سے دکھاؤ تمہیں خدا تعالیٰ نے بہت عمدہ موقع دیا ہے کہ ایک شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے اپنے وقت پر آیا جو راستبازوں کا پورا نمونہ ہے اور تم میں موجود ہے وہ تم سے بھی چاہتا ہے کہ تم دین کو دُنیا پر مقدّم کرو۔اس پر عمل کرو گے تو ناکام نہ رہو گے۔مومن کبھی ناشاد نہیں رہ سکتا بلکہ سَدا ہی بہشت میں رہتا ہے۔اس کو دو بہشت ملتے ہیں دُنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔(الحکم ۲۲؍فروری ۱۹۰۵ء صفحہ ۷،۱۷؍مئی ۱۹۰۵ء صفحہ۶) جو قربانی کرتا ہے اﷲ اس پر خاص فضل کرتا ہے۔اﷲ اس کا ولی بن جاتا ہے پھر اسے محبّت کا مظہر بناتا ہے۔پھر اﷲ انہیں عبودیّت بخشتا ہے۔یہ وہ مقام ہے جس میں لامحدود ترقیاں ہو سکتی ہیں چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السّلام کو بھی کہا گیا اَسْلِمْ تو انہوں نے کہا اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔خیر جب یہ عبودیّت کا تعلق مستحکم ہو جاتا ہے تو پھر اس میں عصمت پیدا ہوتی ہے اور خدا اسے تبلیغ کا موقع دیتا ہے پھر اس کو ایک قِسم کی دھت ہو جاتی ہے خواہ کوئی مانے یا نہ مانے۔اس میں ایک ہمدردی پیدا ہوتی ہے اور وہ قول موجّہ سے لوگوں کو امر بالمعروف کرتا ہے پھر وقت آتا ہے جب حکم ہوتا ہے کہ لوگوں سے یُوں کہو۔جُوں جُوں ترقّی کرتا جاتا ہے خدا کا فضل اور درجات بڑھتے جاتے ہیں۔(بدر ۲۱؍جنوری ۱۹۰۹ء صفحہ۸) رشک(ِغِبْطَۃ)تمام انسانی ترقّیات کی جَڑ ہے۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر رشک کرنا ہے تو ابراہیمؑ