حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 239 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 239

پَیدا ہوتی ہیں۔ابراہیمی مِلّت کیا ہے؟ یہی کہ اﷲ تعالیٰ نے ان کو کہا اَسْلِمْ تُوفرمانبردار ہو جا۔انہوں نے کچھ نہیں پُوچھا یہی کہا اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔اِسلام کسی دعوٰی کا نام نہیں بلکہ اسلام یہ ہے کہ اپنی اصلاح کر کے سچّا نمونہ ہو۔صلح و آشتی سے کام لے۔فرمانبردار ہو۔سارے اعضاء قلب، زبان، جوارح، اعمال و اموال انقیادِ الہٰی میں لگ جائیں۔مُنہ سے مسلمان کہلا لینا آسان ہے۔شرک، حرص ، طمع اور جھُوٹ سے گریز نہیں۔زنا ،چوری، غفلت اور کینہ ، ایذاء رسانی سے دریغ نہیں۔پھر کہتا ہے مَیں فرمانبردار ہوں۔یہ دعوٰی غلط ہے۔کیسا عجیب زمانہ تھا جب یہ دعوٰی کہ نَحْنُ لَہ‘ مُسْلِمُوْنَ۔نَحْنُ لَہ‘عَابِدُوْنَ عَلٰی رؤُوْسُ الْاَشْھَادکئے جاتے تھے۔ایسے پاک مدعیوں کی طرح مومن بننا چاہیئے جن کی تصدیق میں خدا نے بھی فرمایا کہ ہاں سچ کہتے ہیں کہ ہم اﷲ کے مخلص عابد ہیں۔مومن کو اَسْلِمْ کہنے کے ساتھ ہی اَسْلَمْتُ کہنے کے لئے تیار رہنا چاہیئے۔یہی نکتہ معرفت کا ہے جو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیئے اور اسی کے نہ سمجھنے کی وجہ سے فَرِحُوْا بِمَاعِنْدَھُمْ مِنَ الْعِلْمِ (المؤمن:۸۴)کے مصداق ہو جاتے ہیں… مَیں پھر کہتا ہوں کہ ملّتِ ابراہیمؑ بڑی عجیب راحت بخش چیز ہے۔وہ ملّت و سیرت کیا ہے؟ اَسْلِمْ فرمانبردار قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔پھر اس مِلّت اور سیرت کو چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے شفا بخش رحمت اور نُورپایا تھا اِس لئے نہ صرف اپنے ہی لئے اس کو پسند کیا بلکہ وَصّٰی بِھَا اِبْرَھٖیْمُاِسی سیرت اور مِلّت کی ابراہیمؑ نے اپنی اولاد کو وصیّت کی۔(الحکم ۱۷؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ۴) حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے عمل درآمد اور ان کی تعلیم کا خلاصہ قرآن شریف نے اِن آیات میں بیان فرمایا ہے کہ جیسا اس کے رَبّ نے اُسے کہا اَسْلِمْ تُوفرمانبردار ہو جا تو ابراہیمؑ نے کوئی سوال کسی قِسم کا نہیں کیا اور نہ کوئی کیفیّت دریافت کی کہ مَیں کِس امر میں فرمانبرداری اختیار کروں بلکہ ہر ایک امر کے لئے خواہ وہ کِسی رنگ میں دیا جائے اپنی گردن کو آگے رکھ دیا اور جواب میں کہا اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْن کہتے ہیں مَیں تو ربّ العٰلمین کا تابعدار ہو چکا۔ابراہیم علیہ السّلام کی یہی فرمانبرداری اپنے رَبّ کے لئے تھی جس نے اُسے خدا کی نظروں میں برگزیدہ بنا دیا۔وہ لوگ جو ابراہیمؑ کا دین یعنی ہر طرح اپنے آپ کو خدا کے سپرد کرنا اختیار نہیں کرتے غلطی کرتے ہیں اور اِسی لئے اﷲ تعالیٰ ان کو سفیہ قرار دیتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے اسے دُنیا میں بھی برگزیدہ کیا۔پس وہ لوگ جو کہ دُنیا میں ترقّی کرنا چاہتے ہیں وہ غور کریں کہ خدا کی فرمانبرداری سے وہ ابراہیمی مراتب حاصل کر سکتے ہیں۔