حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 234
پرورش فرما اور اعتقادات کے اعلیٰ مدارج پر پہنچا۔اے اﷲ اپنی ربوبیّت کے شان سے ایک رسول ان میں بھیجیو کہمِنْھُمْ یعنی انہی میں کا ہو اور اس کا کام یہ ہو کہ وہ صرف تیری ( اپنی نہیں) باتیں پڑھے اور پڑھائے اور صرف یہی نہیں بلکہ ان کو سمجھا اور سکھلا بھی دے۔پھر اِس پر بس نہ کیجیوبلکہ ایسی طاقت، جذب اور کشش بھی اسے دیجئو جس سے لوگ اس تعلیم پر کاربند ہو کر مزکّی اور مطہّر بن جاویں۔تیرے نام کی اس سے عزّت ہوتی ہے کیونکہ تُو عزیز ہے اور تیری باتیں حق اور حکمت سے بھری ہوئی ہوتی ہیں۔اس دُعا کی قبولیّت کِس طرح سے ہوئی وہ تم لوگ جانتے ہو اور یہ صرف اس دعا ہی کے ثمرات ہیں جس سے ہم فائدے اُٹھاتے ہیں۔(الحکم ۲۴؍جنوری ۱۹۰۴ء) حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے سات دعائیں کیں:۔۱۔رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ ۲۔وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَآ اُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّکَ ۳۔وَاَرِنَا مَنَا سِکَنَا ۴۔وَتُبْ عَلَیْنَا اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۵۔رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ یٰتِکَ ۶۔وَ یُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَُۃَ ۷۔وَیُزَکِّیْھِمْ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔۱۔اے ہمارے رَبّ ہم کو اپنا فرمانبردار بنا لے۔۲۔ہماری اولاد میں سے ایک فرمانبردار جماعت جو دوسرے کے لئے امام ہو، بنا۔۳۔ہمیں اپنی عبادت کے طریقے سکھا۔اِس میں تنبیہہ ہے اِس بات کی طرف کہ کوئی مَن گھڑت طریق مقبول نہیں ہے۔۴۔اور ہماری فرمانبرداری میں جو غلطیاں یا کمزوریاں ظاہر ہوں ان سے در گذر فرما۔۵۔۶۔۷۔اور پھر ان میں ایک رسول مبعوث کر جو ان کو کتاب اور پُختہ باتیں سکھائے اور ان کا تزکیہ کر۔(تشحیذالاذہان جلد ۶ نمبر ۹ صفحہ ۳۵۶)