حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 224
کا قِصّہ بیان کیا۔پھر رکوع ۵ میں بنی اسرائیل کا ذکر شروع کیا اور سے ظاہر کر دیا کہ وہ ایک مُنعم علیہ قوم تھی۔پھر قِسم قِسم کے انعاموں کا جوان پر ہوئے مذکور ہے اور ساتھ ہی ان اسباب کا ذکر فرماتا ہے جن سے یہی منعم علیہ قوم مغضوب علیہ بنی۔ازاں جملہ گائے کی پرستش ، موسٰیؑ کی فرمانبرداری چھوڑ کر زمیندارہ پسند کرنا۔چھوٹے چھوٹے گناہوں کی پرواہ نہ کرنا۔یہاں تک کہ کفرو قتل انبیاء تک نوبت پہنچ گئی۔پھر سلیمانؑ کے زمانہ میں امن و آسودگی میں بجائے شکرِ الہٰی کے بغاوت و عملیات و خفیہ کمیٹیوں کی طرف مائل ہونا۔مسیحؑ کا انکار۔پھر اس رسول علیہ السّلام کا انکار۔اَب اس رکوع ۱۵ میں یہ قصّہ ختم ہوتا ہے۔فرماتا ہے کہ او بہادر سپاہی کی اولاد! مَیں نے تمہیں ہم عصر لوگوں پر بہت سی بزرگیاں دیں، پر تم نے اس بزرگ کی شان کو قائم نہ رکھنا چاہا۔تم اس دِن سے ڈرو جب کہ کوئی جی کسی کے کام نہ آئیگا چنانچہ بنی قریظہ قتل ہوئے۔سعدبن معاذ کو انہوں نے خیر خواہ سمجھا پر اس نے بھی ان کے خلاف ہی رائے دی۔بنی نضیر کا تعلق عبداﷲ بن اُبَیّ سے تھا اس نے کہا۔یہی۔(حشر:۱۲) مگر موقع پر نہ کوئی سفاش کر سکا اور نہ ہی نصرت دے سکا۔وَلَا ھُمْ یُنْصَرُوْنَکیسی عظیم الشّان پیشگوئی ہے۔تیرہ سَو برس گذر چکے مگرلَا یُنْصَرُوْنَ کا فتوٰی ایسا اٹل فتوٰی ہے کہ اب تک کوئی قوم بنی اسرائیل کی ناصر دُنیا میں نہیں۔چپّہ پھر کہیں ان کی سلطنت نہیں ہے۔جس ملک میں جاتے ہیں ایسے اسباب مہیّا ہو جاتے ہیں کہ ذلیل ہو کر نکلنا پڑتا ہے اس کی جڑ یہ ہے کہ یہ سُود خوار قوم ہے۔جب لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کے پنجے سے چھٹکارا نہیں ہو سکتا تو اپنے بادشاہوں کے پاس چُغلیاں کھاتے ہیں اور پھر انہیں حکم ہوتا ہے نکل جاؤ۔مَیں اکثر مخالفانِ اِسلام کو چیلنج دیا کرتا ہوں کہ ایسی پیشگوئی کسی قوم کی نسبت کر دکھاؤ۔راست بازوں سے مقابلہ کرنا بڑا خطرناک ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۱؍مارچ ۱۹۰۹ء) :یہ اس پہلی بات کو دُہرایا ہے لیکچرار کو بھی ایسا ہی چاہیئے کہ بات کی تشریح کر کے پھر خلاصہ دُہرادے۔ اور رکوع ۶ یعنی شفاعت پہلے ہے اِس کی وجہ یہ ہے دُنیا میں دو قِسم کے آدمی ہیں۔پہلے وہ شفاعت کی طرف جھُکتے ہیں۔جب اُس نے کام نہ دیا تو جُرمانہ بھرنے پر بھی حاضر۔دوسرے اس کے خلاف ہیں۔اس کے بعد اَور سلسلہاَنْعَمْتُ کا لیا ہے۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر ۹ صفحہ ۴۳۹)