حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 221
پھر وہابیوں اور غیر وہابیوں کی اور اَب تو کوئی حساب ہی نہیں۔ان لوگوں کو شرم نہ آئی کہ مکّہ کی مسجد تو ایک ہی ہے اور مدینہ کی بھی ایک ہے۔قُرآن بھی ایک ، نبی بھی ایک ، مُرشد بھی ایک۔پھر ہم کیوں ایسا تفرقہ ڈالتے ہیں۔ان کو چاہیئے کہ مسجدوں میں خوفِ الہٰی سے بھرے داخل ہوتے۔صرف اِسی وجہ سے رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب مسجد میں آئے اور جماعت ہو رہی ہو تو وقار اور سکینت سے آئے اور اَدب کرے جیسا کہ کسی شہنشاہ کے دربار میں داخل ہوتا ہے لیکن وہ اگر خوفِ الہٰی سے کام نہیں لیتے اور مسجدوں میں نماز پڑھنے سے روکتے ہیں اُن کے لئے دُنیا میں بھی ذِلّت ہے اور آخرت میں بھی بڑا عذاب ہے۔یاد رکھو کسی کو مسجد سے روکنا بڑا بھاری ظلم ہے۔اپنے نبی کریم (صلی اﷲ علیہ وسلم) کے طرزِ عمل کو دیکھو کہ نصرانیوں کو اپنی مسجد مبارک میں گرجا کرنے کی اجازت دے دی۔صحابہ کرامَ رضی اﷲ عنہم کو تسلّی دیتا ہے کہ اگر تمہیں مسجد میں داخل ہونے سے روکتا ہے تو کچھ غم نہ کرو مَیں تمہار ا حامی ہوں جس طرف تم گھوڑوں کی باگیں اُٹھاؤ گے اور مونہہ کرو گے اسی طرف میری بھی توجّہ ہے چنانچہ جدھر صحابہ ؓ نے رخ کیا فتح و ظفر استقبال کو آئے۔یہ بڑا اعلیٰ نسخہ ہے کہ کِسی کو عبادت گاہ سے نہ روکو اور کسی مخلوق کی تحقیر نہ کرو۔مگر اِس سے یہ مطلب نہیں کہ دُنیا میں امر بالمعروف نہ کرو۔ہرگز نہیں۔بلکہ صرف حُسنِ سلوک اور سلامت رَوی سے پیش آؤ۔جو کسی کی غلطی ہو اس کی فورًا تردید کرو۔مثلاً عیسائی ہیں جب وہ کہیں کہ خدا کا بیٹا ہے تو ان کو کہو خدا تعالیٰ اِس قِسم کی احتیاج سے پاک ہے۔جب آسمان و زمین میں سب کچھ اسی کا ہے اور سب اس کے فرماں بردار ہیں تو اس کو بیٹے کی کیا ضرورت ہے۔(بدر ۱۸؍فروری ۱۹۰۹ء صفحہ ۲)