حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 218
دُنیا میں کوئی مذہب اِسلام سے مقابلہ نہیں کر سکتا مگر مَیں یہ بھی ساتھ ہی کہوں گا کہ اسلام ہو دعوٰیٔ اسلام نہ ہو۔مَنْ اَسْلَمَ وَجْھَہ‘ لِلّٰہِ وَھُوَ مُحْسِنٌ کامِصداق ہو۔ساری توجّہ خدا تعالیٰ ہی کی طرف لگا دیوے اور ایسے طریق پر کہ گویا وہ خدا کو دیکھ رہا ہے یا کم از کم اِتنا ہی ہو کہ اِس بات کو کامل طور پر سمجھے کہ خدا مجھ کو دیکھ رہا ہے۔خدا تعالیٰ کے انعام کو یاد کر کے اور یہ دیکھ کر کہ کیسی کتاب ، کیسا مذہب اُس نے عطا کیا ہے۔(الحکم ۳؍مارچ ۱۸۹۹ء صفحہ۵) یہود کہتے ہیں نصارٰی کچھ بھی نہیں اور نصارٰی کہتے ہیں یہود کچھ بھی نہیں حالانکہ وہ کتاب (مقدّس) کو پڑھتے ہیں۔نادان ایسا ہی کہا کرتے ہیں۔یہود نے کہا عیسائی کچھ راہ پر نہیں اور عیسائیوں نے کہا یہود کچھ راہ پر نہیںحالانکہ ممکن ہے بلکہ واقعی یُوں ہے کہ عیسائیوں میں بہت سی خوبیاں ہوں۔پس یہود کا عام طور پر یہ کہنا کہ عیسائی کچھ راہ پر نہیں غلطی اور نا سمجھی ہے۔ایسا ہی ممکن ہے بلکہ واقعی ہے کہ یہود میں کچھ بھلائی بھی۔ہو پس عیسائیوں کا علی العموم یُوں کہہ دینا کہ یہود کچھ بھی راہ پر نہیں بڑی ناسمجھی اور بے انصافی ہے۔غرض علی العموم کسی مذہب کو یُوں کہہ دینا کہ وہ بالکل ہی بھلائی سے مبّرا ہے کوئی عِلمی بات نہیں۔(تصدیق براہینِ احمدیہ صفحہ ۲۵) ہمیں تو قرآن کریم یہود و نصارٰی کے اِس قول کو نصیحت کے طور پرہمیں بتاتا ہے۔