حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 217 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 217

 قَالُوْالَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّۃَ:آدمی جب اکیلے بیٹھتے ہیں تو دوسروں کی عیب چینی کرنے لگ جاتے ہیں اور پھر اپنے تئیں کچھ سمجھنے لگتے ہیں یہاں تک کہ دوسروں کی حقارت سما جاتی ہے اور کہتے ہیں کہ ہم ہی جنّت میں جائیں گے۔یہ صرف ہوائی باتیں ہیں۔ھَاتُوْا بُرْھَانَکُمْ:برہ کے معنے ہیں قطع کے۔اگر تم سچّے ہو تو کوئی دلیل قاطع یا حجتِ نیّرہ پیش کرو اور بَرْھَنَ کے معنے ’’ ظاہر کیا‘‘ کے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۱؍مارچ ۱۹۰۹ء) بَلٰی مَنْ اَسْلَمَ وَجْھَہ‘ لِلّٰہِ:اﷲ تعالیٰ کے فرمانبردار بنیں اور اسکے حکم کے مقابل کِسی اَور حکم کی پرواہ نہ کریں۔فرمانبرداری کا اثر اور امتحان مقابلہ کے وقت ہوتا ہے۔ایک طرف قوم اور رسم و رواج بُلاتا ہے دوسری طرف خدا تعالیٰ کا حکم ہے۔اگر قوم اور رسم و رواج کی پرواہ کرتا ہے تو پھر اُس کا بندہ ہے اور اگر خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری کرتا ہے اور کسی بات کی پرواہ نہیں کرتا تو پھر خدا تعالیٰ پر سچّا ایمان رکھتا ہے اور اس کافرمانبردار ہے اور یہی عبودیّت ہے۔قرآن مجید نے اِسلام کی یہی تعریف کی ہے۔مَنْ اَسْلَمَ وَجْھَہ‘ لِلّٰہِ وَھُوَ مُحْسِنٌ۔سچّی فرمانبرداری یہی ہے کہ انسان کا اپنا کچھ نہ رہے۔اس کی آرزوئیں اور امّیدیں، اس کے خیالات اور افعال سب کے سب اﷲ تعالیٰ ہی کی رضا اور فرمانبرداری کے نیچے ہوں۔میرا اپنا تو یہ ایمان ہے کہ اس کا کھانا پینا، چلنا سب کچھ اﷲ تعالیٰ ہی کے لئے ہو تو مسلمان اور بندہ بنتا ہے۔خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری اور رضا مندی کی راہوں کو بتانے والے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم ہیں۔چونکہ ہر شخص کو مکالمہ الہٰیہ کے ذریعہ الہٰی رضا مندیوں کی خبر نہیں ہوتی ہے۔اگر کسی کو ہو بھی تو اُس کی وہ حفاظت اور شان نہیں ہوتی جو خدا تعالیٰ کے ماموروں اور مُرسلوں کی وحی کی ہوتی ہے اور خصوصًا سرورِ انبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کی کہ جس کے دائیں بائیں، آگے پیچھے ہزاروں ہزار ملائکہ حفاظت کے لئے ہوتے ہیں اِس لئے کامل نمونہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم ہی ہیں اور و ہی مقتدا اور مطاع ہیں۔پس ہر ایک نیکی تب ہی ہو سکتی ہے کہ جب وہ اﷲ تعالیٰ ہی کیلئے ہو اور پھر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی اتّباع کے نیچے ہو۔(بدر ۵؍مارچ ۱۹۰۸ء صفحہ ۵،۶) خدا تعالیٰ سے غافل اور بے پرواہ نہ ہو یہ منشائے اِسلام ہے۔پس یاد رکھو کہ عقائد کے لحاظ سے دُنیا میں بینظیر چیز اسلام ہے۔مَیں راستی سے کہتا ہوں کہ ایمان کے لحاظ سے، اعمال کے لحاظ سے