حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 216 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 216

پھر آیت کے معنے علاوہ کلامِ الہٰی کے مطلق نشان بھی ہیں مثلاً خزاں میں درختوں کے پتّے مِٹ جاتے ہیں پھر ان جیسے یا ان سے بہتر پَیدا کرتے ہیں۔نفسِ نسخ کے متعلق بحث فضول ہے کیونکہ یہ ممکن ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ کارخانۂ ہستی میں ایسا ہوتا رہتا ہے۔ہاں یہ بات کہ ( قرآن مجید میں) نسخ ہے یا نہیں؟اِس کے متعلق جہاں تک میرا فہم ہے مَیں یہی کہوں گا کہ آج تک کوئی ایسی آیت نظر نہیں آئی جو منسُوخ اور موجود فی القرآن ہو۔حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم یا ابوبکر و عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کی زبان سے بھی کوئی ایسا لفظ مروی نہیں جس سے ایسی آیات کا موجود فی القرآن ہونا پایا جاتا ہو۔اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اﷲَ لَہ‘ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ:فرمایا کہ اِس نسخ(تغیّر) کا سبب ہم نہیں بلکہ تمہارے حالات میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے اِس لئے ہمیں احکام میں تغیرّ کرنا پڑتا ہے۔کَمَا سُئِلَ مُوْسٰی مِنْ قَبْلُ:موسٰی علیہ السّلام سے کیا سوالات ہوئے؟ ایک کا ذکر سُورۂ نساء پارہ ۶ کے پہلے رکوع میں ہے جہاں فرماتا ہے(آیت:۱۵۴) حَتّٰی یَاْتِیَ اﷲُ بِاَمْرِہٖ :اس وقت تک کہ اَور حکومت تمہیں دے تمہیں چاہیئے کہ درگذر سے کام لو اور نماز سنوار کر پڑھتے رہو اور زکوٰۃ دیتے رہو۔زکوٰۃ ہر ایک لے سکتا ہے۔یہ بھی زکوٰۃ ہے کہ کوئی اپنے نفس کا تزکیہ کرے پھر کِسی کو نیک بات بتانا یہ بھی زکوٰۃ ہے۔نیا لباس ملے تو پُرانا کِسی غریب کو دینا یہ بھی زکوٰۃ ہے اور ایک وہ زکوٰۃ ہے جو مشہور ہے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۱؍مارچ ۱۹۰۹ء)