حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 205
جب آدمی میں آسائش آ جاتی ہے تو وہ ہر نٔی چیز میں بڑی دلچسپی لیتا ہے اور اس انہماک میں پھر جائز و ناجائز امر کو نہیں دیکھتا۔حتّٰی کہ جس طرح شیعہ حضرت ابوبکررضی اﷲ عنہم و عمررضی اﷲ عنہم وعثمانرضی اﷲ عنہم کو بُرا کہتے ہیں اور خارجی اہلِ بَیت کو۔اسی طرح وہ ایک دوسرے پر نکتہ چینی کرنے لگ جاتے ہیں مگر اس کا نتیجہ اچھا نہیں ہوتا۔شیعہ نے اِس نکتہ چینی سے کیا فائدہ اُٹھایا۔اِسی طرح حضرت داؤدؑ کے بیٹے سلیمانؑ برگزیدہ نبی تھے مگر ان لوگوں نے ان کی بھی عیب چینی شروع کر دی اور ان سے ایسی باتیں منسُوب کیں جو ایک نبی کی شان سے بالکل بعید ہیں۔اس کی اصلیّت یہ ہے کہ حضرت سلیمانؑ کے عہد میں جب ان کی آسُودگی ہوئی تو ہندوستان، چین اور مصر سے نئے نئے آدمی وہاں جا آباد ہوئے اور ان لوگوں کی دلچسپی کے لئے عجیب عجیب فن پیش کئے جن میں وہ ایسے مشغول ہوئے کہ سب کچھ بھُول گئے۔جیسا کہ انسان کی عادت ہیکہ جب ایک طرف متوجّہ ہو تو دوسری طرف توجّہ ضرور کم ہو جاتی ہے اسی طرح بنی اسرائیل کی خدا کی طرف توجّہ کم ہو گئی اور ان بے ہُو وہ باتوں کی طرف بڑھ گئی اور ایسی بڑھی کہ اس کا اثر مسلمانوں تک بھی پہنچا۔نقشِ سلیمانی، سحر ہاروت ماروت اور ایسی کتابیں اسی بیہُودگی اور لغویّت کی یادگار ہیں اور غضب یہ ہے کہ یہ کُفر سلیمانؑ پر تھوپا جاتا ہے۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ سلیمانؑ نے یہ کفر نہیں کیا اور ہرگز نہیں کیا۔آپ پر جو الزام لگائے گئے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ بلقیس نام ایک ملکہ پر عاشق ہو گئے اور پھر اس کو راضی کرنے کے لئے بُت پرستی بھی کی۔یہ سب جھُوٹ ہے۔خدا نے اصل واقعہ سُورۂ نمل رکوع ۸ میں بیان فرمایا ہے اور وہاں ظاہر کر دیا ہے کہ وہ ملکہ تو خود مسلمان ہوئی اور عُذر خواہ ہو کر سلیمانؑ کے دربار میں آئی۔قَالَتْ رَبِّ اِنِّ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَاَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔بعض وقت انبیاء کی نسبت جو الفاظ بولے جاتے ہیں ان سے ان کی تعریف مقصود نہیں ہوتی بلکہ صرف اس الزام کا اُٹھانا ہوتا ہے جو اُن پر لگایا گیا ہے یہاںمَاکَفَرَ اِسی لئے آیا ہے۔:وہ قومیں جو اﷲسے بہت دُور تھیں (الشَّیٰطِیْنَکے یہاں یہی معنی ہیں) جب وہ ملکِ سلیمانؑ میں آئیں تو بنی اسرائیل کو اپنے ڈھب کا پا کر اپنی طرف متوجّہ کر لیا اور انہیں سحر کی تعلیم شروع کر دی۔سحر کہتے ہیں دِل رُبا باتوں کو خواہ از قِسم عملیات ہوں یا شعبدہ بازی یا تسخیرکُلّ مَا دِقَّ وَ لَطُفَ مَأْخَذُہ‘ جس کی دریافت نہایت باریک در باریک ہو۔