حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 206 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 206

اِنَّ مِنَ الْبَیَانَ لَسِحْرٌ(بخاری۔کتاب النکاح باب الخطبۃِ)بھی آیا ہے اِس لئے ناول بھی سحر میں داخل ہے۔بعض ناول ایسے ہوتے ہیں کہ انسان بغیر ختم کرنے کے ہاتھ سے چھوڑ ہی نہیں سکتا۔حضرت عمرؓ سے کسی نے پوچھا تھا آپ کی طبیعت میں وہ تیزی نہیں رہی جو زمانۂ جاہلیّت میں تھی۔آپ نے جواب دیا۔تیزی تو وہی ہے مگر اَب وہ کفّار کے مقابلہ میں دکھائی جاتی ہے۔اِسی طرح جن لوگوں کو لکھنا آتا ہے اور طبیعت موزوں واقع ہوئی ہے وہ ناول نویسی کی طرف متوجّہ ہو گئے ہیں۔ایسے شغلوں میں پڑ کر انسان اپنی کتاب سے بے خبر ہو جاتا ہے اور اکثر اَوقات یہ بھی نہیں سمجھا جاتا کہ میری روحانی حالت دن بدن بگڑ رہی ہے۔اس کے بعد ایک اَور نصیحت فرمائی وہ یہ کہ اِنسان جب کسی کے ساتھ دشمنی کرتا ہے تو پھر اس دشمنی کے بڑھانے یا اس سے انتقام لینے کے لئے اپنے دشمن کی باتیں سُنتا اور اس کے خلاف منصوبے کرتا اور اپنے ساتھ اَور لوگوں کو ملاتا ہے۔ہر وقت اس کو یہی دھت لگی رہتی ہے اور وہ اپنے دین سے بے خبر ہو جاتا ہے۔بنی اسرائیل جب قید تھے وہ زمانہ دانیال ، عزرا، حزقیل اور یرمیاہ وغیرھم انبیاء کا تھا۔جب بابل میں گئے تو بابل والے آسُودہ تھے اور آسُودگی کی وجہ سے طرح طرح کے گندوں میں مُبتلا۔دانیال باب۱ درس ۱۶ اور باب۵ درس ۲،۳ میں شراب پینے کا ذکر ہے۔اﷲ نے ہاروت ماروت دو فرشتے نازل کئے۔ہرت کہتے ہیں زمین کو صاف کرنے کو۔مرت کہتے ہیں نشیب و فراز دبا کر درخت گھاس کٹوا کر صاف میدان کر دینے کو۔ان فرشتوں کے ذریعہ یسعیاہ کو آگاہ کیا کہ یہ لوگ خراب ہو گئے ہیں اِس واسطے تم اَور کسی سلطنت سے گانٹھو اور اس کے ذریعے سے ان کو ہلاک کر دو۔یہ علم ملائکہ کے ذریعے ان پر نازل ہؤا چنانچہ میدوفارس کے بادشاہوں سے دوستی لگا کر بنی اسرائیل نے بابل والوں کو تباہ کر دیا۔بابل بڑا شہر تھا۔یہ بھاری آبادی تھا۔کوئی پچّاس ساٹھ میل میں۔چونکہ بابل کی تباہی میں اﷲ نے فارس کے بادشاہوں کے ذریعہ سے فضل کیا اِس لئے بنی اسرائیل کے تعلّقات فارس والوں سے قائم رہے۔جب نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم مدنیہ طیبہ میں آئے تو یہودیوں نے چاہا کہ پھر فارس کے بادشاہ کے ذریعے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اور ان کی جماعت کا استیصال کریں چنانچہ فارس کے بادشاہ نے اپنے یمنی گورنر کے ذریعہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو گرفتار بھی کرنا چاہا مگر رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے ان فرستادوں سے کہا کہ جس نے تمہیں میری گرفتاری کے لئے بھجوایا ہے اُس کو میرے خدا نے اسی کے بیٹے کے ہاتھ سے ہلاک کروا دیا ہے چنانچہ ایسا ہی ہؤا۔لیکن چونکہ یہ ایک نبی کا مقابلہ تھا اِس لئے اس میں ناکام رہے۔اﷲ تعالیٰ اِن آیات میں انہی واقعات کی طرف ایماء فرماتا ہے۔