حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 202
(البقرۃ:۱۶۵) یہ قرآن مجید پہلے مصدّق ہوا۔پھر اِس میں نئی باتیں بھی ہیں۔یہ بھی تو کئی پہلو سے اِس کا کمال ہے۔اب عملی پہلو میں اِس کا ثبوت لو۔وہ یہ کہ قرآن کریں پر عمل کرو تو دُنیا کے فاتح بن جاؤ گے چنانچہ صحابہ رضی اﷲ عنہم کی ذات میں یہ پیشکوئی پوری ہوئی۔بُشّرٰیکی ایک تشریح یہ بھی ہے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۵؍فروری ۱۹۰۹ء) مِیْکٰلَ:ان تمام ملائکہ کا آفیسر ہے جن کے علوم دماغ سے وابستہ ہیں مثلاً ریاضی (موسیقی، ہندسہ، جبرومقابلہ) اور طبعیات (اسٹرانومی،کیمیا) یہ علوم الہٰیّات سے کم درجہ پر ہیں اِس لئے جلد سمجھ میں آ جاتے ہیں۔مگر جُوں جُوں علوم اعلیٰ ہوتے جاتے ہیں تو باریک بھی ہوتے جاتے ہیں۔ایک دفعہ ایک اپنے عزیز کو مَیں نے وہ لیکچر سُننے کے لئے بھیجا جو سُورج گرہن کو دیکھ کر ایک انگریز نے دینا تھا۔وہ لڑکا کہنے لگا مَیں نے تو کچھ نہیں سمجھا۔پھر اس نے اپنے ماسٹر سے پوچھا تو اس نے کہا۔پانچ سال مَیں اس کی صُحبت میں رہوں تو اس کی باتیں سمجھنے کے قابل ہو سکتا ہوں۔غرض دُنیا میں کئی قِسم کے علوم ہیں اور وہ تمام علوم ملائکہ کی معرفت لوگوں پر کھُلے ہیں۔وہ الہٰیات کے ہوں یا طبیعات کے ، دونوں کا انکار ملائکہ اور ملائکہ کے آفیسرز جبرائیل و میکائیل کا انکار ہے۔پھر رسولوں کا انکار ہے جو اِن ملائکہ کی تحریکات کے مَہبط ہیں۔پھر حضرت محمد رسول اﷲصلّی اﷲ علیہ وسلم کا انکار ہے جو تمام رسولوں کے کمالات کے جامع ہیں اور ایسے لوگوں کا اﷲ تعالیٰ مخالف ہے۔اور پھر ایسا کُفر کرنے والوں کا ایک نشان ہے کہ وہ سب بد عہد ہیں اور فاسق و فاجر، اور یہ کھُلی ہوئی بات ہے کیونکہ جبرائیل و میکائیل کا دشمن وہی ہو گا جو دین و دُنیا کے متعلق عمدہ اور نیک تحریکوں کو مخالف ہو اور وہ فاسق و فاجر کے سوا کون ہو سکتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۱؍مارچ ۱۹۰۹ء) مَیں نے بارہا سُنایا ہے کہ مَلک پر ایمان لانے کا منشاء کیا ہے۔صرف وجود کا ماننا تو غیر ضروری ہے۔اِس طرح تو پھر ستاروں، آسمانوں ، شیطانوں کا ماننا بھی ضروری ہو گا۔پس ملائکہ پر ایمان لانے سے یہ مراد ہے کہ بیٹھے بیٹھے جو کبھی نیکی کا خیال پَیدا ہوتا ہے اُس کا محّرک فرشتہ سمجھا جائے اور اس پر عمل کیا جاوے کیونکہ جب وہ تحریک ہوتی ہے تو وہ موقع ہوتا ہے نیکی کرنے کا۔اگر انسان اس وقت نیکی نہ کرے تو مَلک اُس شخص سے محبّت کم کر دیتا ہے۔پھر نیکی کی تحریک بہت کم کرتا ہے اور جُوں جُوں انسان بے پرواہ ہوتا جائے وہ اپنی تحریکات کو کم کرتا جاتا ہے اور اگر وہ اس تحریک پر عمل کرے تو پھر مَلک اَور بھی زیادہ تحریکیں کرتا ہے اور آہستہ آہستہ اس شخص سے تعلقاتِ محبّت قائم