حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 203
ہوتے جاتے ہیں بلکہ اَور فرشتوں سے بھی یہی تعلق پَیدا ہو کر تَتَنَزَّلُ عَلَیْھِمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ (حٰمٓ السجدۃ:۳۱)کا وقت آ جاتا ہے۔یہاں خدا تعالیٰ نے خصوصیّت سے دو فرشتوں کا ذکر کیا ہے اس میں ایک نام جبرائیل ہے۔دوسرے مقام پر اس کے بارے میں فرمایا ہے۔۔۔(التکویر:۲۰تا۲۲) یعنی وہ رسول ہے اعلیٰ درجہ کی عزّت والا۔طاقتوں والا۔رُتبے والا۔اور ملائکہ اس کے ماتحت چلتے ہیں۔اﷲ کی رحمتوں کے خزانہ کا امین ہے۔پس جب یہ امر مسلّم ہے کہ تمام دُنیا میں ملائکہ کی تحریک سے کوئی نیکی ہو سکتی ہے اور ملائکہ کی فرمانبرداری مومن کا فرض ہے تو پھر اس ملائکہ کے سردار کی تحریک اور بات تو ضرور مان لینی چاہیئے۔چونکہ یہ تمام محکموں کا افسر ہے اس کی باتیں بھی جامع ہیں۔پس ہر ایک ہدایت کی جَڑ بھی جبرائیل ہے جس کی شان میں ہے (البقرۃ:۹۸)یعنی اس کی تمام تحریکوں کا بڑا مرکز حضرت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا قلب ہے۔پس ہمہ تن اس کے احکام کے تابع ہو جاؤ کیونکہ یہ جامع تحریکات جمیع ملائکہ ہے اور اِس لحاظ سے قرآن شریف جامع کتاب ہے جیسا کہ فرماتا ہے (البیّنۃ:۴) تو گویا جو جبرائیل کا مُنکر ہے وہ اﷲ کا دشمن ہے۔پھر اﷲ کے کلام کا کافر ہے۔پھر حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کا مخالف ہے۔پھر ایک اَور مَلک کا ذکر فرمایا ہے۔جہاں تک مَیں نے سوچا ہے حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی دعا (البقرۃ:۲۰۲)سے یہ مسئلہ حل ہوتا ہے کہ انسان کو دو ضرورتیں ہیں ایک جسمانی جیسے عزّت، اولاد ان کے اخراجات، کھانے کیلئے چیزیں، ایک روحانی، جبرائیل کے بعد ایسی تحریکوں کا مرکز میکائیل ہے۔اﷲ نے دین بنایا دُنیا بھی بنائی۔یہ جہان بھی بنایا وہ جہان بھی۔دونوں تحریکوں کا مرکز ہمارے بنی کریم صلّی اﷲ علیہ وسلّم کا قلبِ مبارک تھا۔اِسی لئے فرمایااُوْتِیْتُ جَوَامِعِ الْکَلِمِ (المسلم کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ۔باب المساجد و مواضع الصلاۃ)قرآن شریف میں دُنیا و دین دونوں کے متعلق ہدایتیںہیں۔بہت سے لوگ ہیں کہ جب فرشتوں کی تحریک ہوتی ہے تو وہ اس تحریک کو پیچھے ڈال دیتے ہیں اور اﷲ کی نیک آیات کو واہیات بتاتے ہیں۔بڑے تعجّب کی بات ہے کہ جب قبض وغیرہ ہو تو اِنسان میکائیلی تحریکوں کے ماننے کو تیار ہو جاتا ہے مگر جب روحانی قبض ہو تو پھر کہتے ہیں کہ خیر اﷲ غفور رحیم