حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 193 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 193

اعتراض نہ آتا تھا دیئے۔وہ اَخلاقی تعلیم تھی۔مان لیتے تو کیا حَرج تھا۔پھر جب تعلیم آئی بِمَا لَا تَھْوٰٓی اَنْفُسُکُمُ اسْتَکْبَرْتُمْتم اسے پسند نہیںکرتے اور تم اسے اپنے مناسبِ حال بناتے ہو۔فَرِیْقًا کَذَّبْتُمْ ایک کو تو تم نے جھٹلایا وَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَاور ایک کو اَب قتل بھی کرنا چاہتے ہو۔(الفضل ۱۷؍دسمبر ۱۹۱۳ء صفحہ۱۵) اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے موسٰیؑ کو بھیجا اور پھر اس کے بعد کئی رسول اَور بھیجے حتّٰی کہ عیسٰی کو بھیجا اَیَّدْنٰہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِاور اسے اپنے کلام سے مؤیّد کیا۔پارہ ۲۵ سورۃشورٰی کے آخری رکوع کی آیت وَکَذٰلِکَ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا سے معلوم ہوتا ہے کہ رُوح سے مراد کلام ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۵؍فروری ۱۹۰۹ء)   غُلْفٌ: جس کا ختنہ نہ ہو اس پر ایک پَردہ رہ جاتا ہے۔اَغْلَف وہ شخص جو نامختون ہے۔دوسرے معنے غلاف میں ہیں جیسے کہ آیا ہے قُلُوْبُنَا فِیْْ ٓ اَکِنَّۃٍ (حٰمٓ السّجدۃ:۶)تیسرے معنے ہم بڑے مکرّم معظّم لوگ ہیں جن پر کسی کا اثر نہیں ہوتا۔فَقَلِیْلًامَّا یُؤْمِنُوْنَ:کم ہی ایمان لاتے ہیں یہ محاورہ ہے یعنی ایمان نہیں لاتے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۵؍فروری ۱۹۰۹ء) وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَاغُلْفٌ:عربی زبان میں نامختون کو غلف کہتے ہیں اور عرب لوگ نامختون کو اچھا نہ جانتے تھے۔مگر انہوں نے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے مقابلہ کیلئے اِس لفظ کو بھی اپنے لئے پسند کیا اور کہا کہ ہمارے دل نامختون ہیں۔اﷲ تعالیٰ نے فرمایا بَلْ لَّعَنَھُمُ اﷲُ بِکُفْرِھِمْیہ تمہارے کُفر کے سبب تم پر لعنت ہوئی۔(الفضل ۱۷؍دسمبر ۱۹۱۳ء صفحہ۱۵)بہت سے لوگفَرِحُوْا بِمَا عِنْدَھُمْ مِّنَ الْعِلْمِ (المؤمن:۸۴) پر نازاں ہوتےہیںاور نئی ہدایت کے ماننے سے پس و پیش کرتے ہیں وہ کہتے ہیں قُلُوْبُنَا غُلْفٌیعنی ہمارے دِل نامختون ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے یہ بات نہیں بلکہ کفر کے سبب ان پر لعنت پڑ گئی۔(بدر ۲۸؍جنوری۱۹۰۹ء صفحہ ۹)