حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 192
کی سزا موجود ہے۔(بدر ۳۱؍دسمبر ۱۹۰۸ء صفحہ۲) ہم نے تو ان لوگوں کی بہتری کے لئے موسٰیؑ کو کتاب دی۔پھر اَور رسول بھیجے۔اخیر میں عیسٰی بن مریم کو کُھلے نشانات کے ساتھ مبعوث کیا اور اسے اپنے کلامِ پاک سے مؤید کیا۔پھر بھی اکثر لوگوں کی عادت ہے کہ جب کوئی رسول آیا اور اُس نے اُن کی خواہشوں کے خلاف کہا تو یہ اَکڑ بیٹھے۔پھر بعض کی تکذیب کی اور بعض کے قتل کے منصُوبے کرنے لگے مگر اس کا انجام ان کے حق میں اچھا نہیں ہؤا۔اﷲ تعالیٰ آپ لوگوں کو فہم عطا کرے۔عاقبت اندیشی دے۔یہ دُنیا چند روزہ ہے۔سب یارو آشنا الگ ہونے والے ہیں ہاں کچھ دوست ایسے ہیں جو دُنیا و آخرت میں ساتھ ہیں۔(بدر ۳۱؍دسمبر ۱۹۰۸ء صفحہ۲) کیسا اﷲ کا فضل اور اس کا رحم اور اس کی غریب نوازی ہے کہ ہمیشہ اپنا پاک کلام ہماری تہذیب کے لئے بھیجتا رہتا ہے۔اگر کِسی آدمی کے نام و ائسرائے یا حاکم یا کِسی امیر کا خط آ جاوے تو وہ اس سے بڑا خوش ہوتے ہیں اور اس کی تعمیل کو بہت ضروری سمجھتے ہیں اور اس کی تعمیل کرتے ہیں مگر قُرآن کریم جو ربّ لعٰلمین اور تمام جہان کے مالک و خالق کا حُکم نامہ ہے اس کی لوگ پرواہ نہیں کرتے اور ہمیشہ اس کی مخالفت ہی کرتے ہیں۔کوئی موسٰیؑ پر ہی مدار نہ تھا وَ قَفَّیْنَا مِنْم بَعْدِہٖ بالرُّسُلاس کے بعد بھی رسول آتے رہے سلیمان ، داؤد بھی اِس کے بعد ہی آئے عیسٰی بن مریم کو بھی کُھلے کُھلے نشانات اور تعلیمیں جن پر کوئی