حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 189
ہیں مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے مگر آخر وہ یہود عرب سے جلاوطن کئے گئے۔ان کا نام بنو نضیر اور بنو قینقاع تھا اور بنو قریظہ کے یہود بالغ سب کے سب مارے گئے۔دیکھو دُنیوی خبر اور اخروری خبر دو خبریں تھیں اور ان کے مقابلہ میں دو واقعات تھے جن کے متعلق دو خبریں تھیں۔ایک خبر نے اپنے واقعہ کے ساتھ صداقت کی مُہر لگا دی ہے کہ دوسری خبر عذابِ قیامت بھی اپنے واقعہ کو ضرور لائے گی۔(دیباچہ نورالدین صفحہ ۳۴،۳۵) مدینہ طیّبہ میں ایک شخص ایک مسلمان کے ہاتھ سے اتفاقیہ طور پرماراگیا۔یہ واقعہ گزر گیا مگر رسول اﷲ (صلی اﷲ علیہ وسلم ) نے تمام شہر کے لوگوں کو بُلا کر فرمایا کہ ہم مقتول کے وارثوں کو خوں بہا دینا مناسب سمجھتے ہیں تاکہ اس کی قوم کے لوگ ہماری مخالفت نہ کریں مگر امنِ عامہ کے شریک اس دیت کے دینے میں شریک نہ ہوئے بلکہ ایک مسلمان عورت تکلا سیدھا کرانے کے لئے قینقاع (جو لوہار تھے) کے محلّہ میں گئی۔وہ گھونگٹ نکالے ہوئے تھی۔شریر لوہار نے کہا کہ یہ کپڑا کیوں مُنہ پر ڈالے ہوئے ہو۔اُس نے جواب دیا۔ہمارے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہمیں پردہ کا حکم دیا ہے۔اس پر اس بدمعاش نے شرارت سے لوہے کی ایک میخ پچھلی طرف کپڑے میں ٹھونک دی۔عورت اُٹھنے لگی تو اس کا کپڑا بھی پھَٹ گیا اور گھونگٹ بھی اُتر گیا۔یہ حالت دیکھ کر بجائے اس کے کہ معذرت کرتے انہوں نے تمسخر اُڑایا۔عورت نے گھبرا کر کہا کہ کوئی ہے جو میری مدد کرے۔ادھر سے ایک مسلمان بھائی نے یہ بات سُن لی وہ مدد کو دَوڑا۔آپس میں وہاں لڑائی چھڑ گئی جس سے ایک قتل ہو گیا۔رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کو جب خبر بھیجی تو فرمایا کہ ہم نے بَیرونی انتظام کے لئے یہ معاہدہ کیا تھا۔تم اندرونی معاملات میں ایسے تیز ہو جاتے ہو کہ قتل تک نوبت پہنچ گئی ہے۔جب وہ بہت تنگ ہوئے تو مدینہ چھوڑ کر چلے گئے۔ادھر بنو نضیر سے ایک حماقت ہوئی کہ کسی اپنے معاملہ کے لئے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کو