حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 182
یہاں ایک نکتہ یاد آ گیا۔ایک شیعہ نے مجھ سے کہا (المائدۃ:۶۸)سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بڑا خطرناک کام تھا۔مَیں نے کہا کہ بیشک۔اتنی قوموں کی مخالفت میں پیغامِ الہٰی پہنچانا بڑا مشکل تھا یہی وجہ ہے کہ آپؐ کی تسلّی کے واسطے (المائدۃ:۶۸)آیت نازل ہوئی)۔مکّہ کے لوگ تو ایسے تھے کہ نہ ان کے پاس کتاب نہ انبیاء کے علوم۔نہ وہ اتنے چالاک۔مگر مدینہ کا دشمن بڑا خطرناک اور چالاک دشمن تھا کیونکہ عیسائی اور یہودی سب پڑھے ہوئے تھے۔ان کا ایک کالج بھی وہاں تھا جسے بَیت المدراس کہتے تھے۔پھر ان میں رُہبان بھی تھے جو کچھ روحانی حالتیں بھی رکھتے تھے اور اپنا خاص اثر بھی۔اِس واسطے حضرت نبی کریم (صلی اﷲ علیہ وسلم) نے تجویز کی کہ سب قوموں کو بُلایا اور ان سے کہا کہ تم جانتے ہومیں یہاں آ کر آباد ہو گیا ہوں میری قوم کے لوگ میرے دشمن ہیں۔تم جانتے ہو کہ اس قوم کا رُعب تمام علاقہ عرب پر ہے پس ان کے ساتھ اَور قومیں بھی مِل کر ہمیں ایذاء پہنچائیںگی۔پس ضرور ہے کہ ہم بَیرونی دشمنوں سے بچنے کے لئے اتفاق کریں۔مَیں اس کے لئے چند شرائط پیش کرتا ہوں جن پر اگر ہمارا اتفاق ہو جائے تو کوئی فساد نہ رہے چنانچہ آپ نے ان کے سامنے عہدنامہ کا یہ مسوّدہ پیش کیا جو انہوں نے مان لیا اور جو اِس رکوع میں مفصّل مذکور ہے۔اس میں حقوقِ الہٰی اور حقوق العباد دونوں آگئے۔لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اﷲَ :یہی آپ کا اصل منشاء تھا جو ان سے منوا لیا کہ ہم لوگ اﷲ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں گے۔یہودیوں کے لئے اس کا مان لینا کوئی مشکل امر نہ تھا۔بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا:یہ عام اَخلاقی باتیں ہیں۔قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا: خوش معاملگی کرنا۔قُوْلُوْاحُسْنًا کے یہی معنے ہیں۔اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ : اپنے اپنے طور سے نمازیں پڑھنا اور زکوٰۃ دیتے رہنا تو دین الہٰی کے متعلق معاہدہ ہؤا۔اب دوسری طرف یہ وعدہ لیا (۱) تم اپنے خون نہ بہاؤ گے یعنی آپس میں نہ لڑو گے (۲) اپنے لوگوں کو گھروں سے باہر نکال کر انہیں در بدر نہ کراؤ گے۔(ضمیمہ اخباربدرؔقادیان۲۵؍فروری ۱۹۰۹ء نیز نورالدین صفحہ ۱۶) خلاصہ دینِ انبیاء کیا ہے؟ تمام انبیاء کے دین کا خلاصہ یہی ہے جو اﷲ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے وعدہ لیا ہے۔لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اﷲَ۔لَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ۔اﷲ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرنی۔بس یہی خلاصہ ہے تمام دینوں کا اور یہی لَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ کے معنے ہیں۔