حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 181
سے قرار تو البتہ خلاف نہ کرے گا اﷲ اپنا اقرار۔یا جوڑتے ہو اﷲ پر جو معلوم نہیں رکھتے۔کیوں نہیں؟ جس نے کمایا گناہ اور گھیر لیا اس کو اس کے گناہ نے۔سو وہی ہیں لوگ دوزخ کے۔اُسی میں رہیں گے۔(فصل الخطاب حِصّہ دوم صفحہ ۱۰۳) اِسی لئے فرقے یہود کے خلوت نشین اور جَتی ستی جنگلوں میں وحشیانہ زندگی بسر کرتے تھے اور عیسائی پوپوں کی طرح خداداد انعامات سے محروم تھے۔(فصل الخطاب جلد۲صفحہ ۱۰۴۔ایڈیشن دوم) حضرت نبی کریم(صلی اﷲ علیہ وسلم) نے چالیس سال کی عمر میں اطلاع دی کہ خدا نے مجھے رسول بنایا۔تیرہ برس آپ مکّہ میں رہے۔اس کے بعد جب آپ کی عمر ۵۳ سال کی ہوئی حکمِ الہٰی کے مطابق ہجرت کر کے چلے گئے۔مکّہ میں آپ کو کئی قِسم کی سہولتیں تھیں۔اوّل تو یہ کہ ایک ہی قِسم کے مخالفین سے پالاپڑتا تھا یعنی مُشرکوں سے اور پھر بوجہ اس کے کہ آپ کا خاندان نہایت معزّز تھا اور آپ کے قرابت دار بھی وہاں تھے کوئی ایذاء رسانی کی جرأت نہ کر سکتا تھا۔آپ ان لوگوں کے رسم و عادات کو بھی سمجھتے تھے۔آپ کے کئی پُرانے دوست بھی تھے جو ہر وقت مدد کرتے۔برخلاف اسکے مدینہ میں جب آپ آئے تو بڑی مشکلات پیش آئیں۔پہلی مشکل تو یہ کہ مکّہ کی مخالفت بدستور تھی(۲) پھر مدینہ میں بھی مُشرکین موجود تھے(۳) ایک منافقوں کا گروہ بھی وہاں پیدا ہو گیا یہ بد ذات گروہ بڑا خوفناک ہوتا ہے، اندر سے کچھ باہر سے کچھ۔(۴) عیسائی بھی تھے (۵) بنو قینقاع یہودی بڑے شُہدے اور اوباش تھے(۶) بنو قریظہ۔(۷)بنو نضیر۔پھر ان کے علاوہ مدینہ کے اِرد گِرد غطفان۔مصر کا گروہ تھا(مجھے